’محسود قبائل کو بے دخل کرنے میں ہاتھ نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 دسمبر 2012 ,‭ 14:37 GMT 19:37 PST
ملا نذیر

ملا نذیر کی جانب سے جاری کیے گئے پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں

پاکستان میں قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان مُلا نذیر گروپ کے سربراہ مُلا نذیر نے کہا ہے کہ وانا سے محسود قبائل کو بے دخل کرنے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں مُلا نذیر گروپ کے مقامی طالبان نے ایک پمفلٹ تقسیم کیا ہے۔ پمفلٹ میں بتایاگیا ہے کہ وانا بازار میں ان پر خودکش حملے کے حوالے سے جو بھی خبریں شائع ہوئی ہے وہ مکمل طور بے بنیاد ہے۔

پمفلٹ کے مطابق مُلانذیر پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ محسود قبائل کے متاثرین کو وانا سے نکالنے میں نہ ہی گروپ ملوث ہے اور نہ ہی ان کا امن کمیٹی سے کوئی تعلق ہے۔

پمفلٹ کے مطابق وہ مجاہدین ہیں اور ان کا تعلق تحریک طالبان افغانستان سے ہیں اور وہ تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔

پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام کاروائی امریکہ اور امریکہ کے اتحادیوں کے خفیہ اداروں کی شیطانی ہے اوروہ ہمشہ مُسلمانوں کو لڑانا چاہتے ہیں۔

پمفلٹ کے مطابق وہ گناہ گار اور واقعہ میں ملوث افراد کو جانتے ہیں لیکن وہ افراد پہلے ہی وانا سے بھاگ گئے ہیں۔

پمفلٹ میں بتایاگیا ہے کہ مُلا نذیر عوام کی دُعاؤں سے چار دفعہ مختلف واقعات میں بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

پمفلٹ کے آخر میں میڈیا سے تعلق رکھنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ ان کے گروپ کے حوالے سے کسی بھی خبر کو شائع کرنے سے گرُیز کریں اور بعد میں کسی کو شکایت کا حق حاصل نہیں ہوگا۔

دو ہفتے پہلے وانا میں مقامی طالبان کے سربراہ مُلا نذیر پر بھی ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق مُلا نذیر پر خودکش حملے کا الزام مقامی پولیٹیکل انتظامیہ نے تحریک طالبان پاکستان پر لگایا تھا جس کے بعد سے وانا میں آباد احمدزئی وزیر قبائل نے محسود قبائل کو علاقہ چھوڑ نے کے لیے کہا تھا اور وانا سے ہزاروں محسود متاثرین علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان حلقہ محسود کے ترجمان عاصم محسود نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مُلا نذیر پر حملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ محسود قبائل اور وزیر قبائل کے درمیان کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں البتہ بعض عناصر محسود قبائل اور وزیر قبائل کو لڑانا چاہتے ہیں۔

انھوں نے اُمید ظاہر کی کہ وزیر قبائل وانا میں محسود قبائل کے متاثرین کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں گے اور ان کو علاقے سے بے دخل کرنے میں جلد بازی سے کام نہیں لیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>