
بہاول خان مُلا نذیر کی نسبت تھوڑے سخت مزاج ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان کمانڈر مُلا نذیر کی ہلاکت کے بعد بہاول خان المعروف صلاح الدین ایوبی کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا ہے۔
چونتیس سالہ بہاول خان قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام کے گاؤں سپین (سفید) میں پیدا ہوئے۔
طالبان کمانڈر بہاول خان کا تعلق وزیر قبائل کی ذیلی شاخ کاکا خیل سے ہے جبکہ ان کا چھوٹا قبیلہ ملک خیل ہے۔
ملک خیل قبیلے میں تقریباً ایک ہزار سے زیادہ خاندان بتائے جاتے ہیں۔
بہاول خان کے والد حاجی مائیزار خان تنائی گاؤں میں کھیتی باڑی کا کام کرتے آئے ہیں اور ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے بتایا جاتا ہے۔
بہاول خان طالبان تحریک میں شامل ہونے سے پہلے ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے منسلک تھے۔ وہ کافی عرصے تک وانا اور ڈیرہ اسماعیل خان کے روٹ پر گاڑی چلاتے رہے تھے تاہم بعد میں ٹرانسپورٹ کا کاروبار چھوڑکر اسی شاہراہ پر جنڈولہ کے قریب کڑی وام کے علاقے میں ہوٹل کے کاروبار سے کئی سال تک منسلک رہے۔
بہاول خان کے دو بھائی ہیں لیکن عمر کے لحاظ سے وہ سب سے بڑے ہیں۔ تاہم ان کے چھوٹے بھائی طالبان تحریک کا حصہ نہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ وہ بچپن سے مذہبی رجحانات رکھتے تھے اور طالبان تحریک میں شامل ہونے سے پہلے کشمیر کے جہاد میں پیش پیش تھے اور عملی طور پر اس میں حصہ بھی لیا۔
صلاح الدین کی شادی تنائی میں ہوئی ہے۔ ان کے دو بیٹے ہیں اور دونوں ہی کم عمر ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان کے دونوں بیٹے جنوبی وزیرستان کے کسی مدرسے میں زیرِ تعلیم ہیں۔
بہاول خان نے کوئی باقاعدہ مذہبی یا عصری تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ انہوں نے تنائی کی ایک مسجد سے صرف لکھنا پڑھنا سیکھا ہے۔ انھوں نے نہ کسی سکول میں داخلہ لیا اور نہ ہی کسی مدرسے پڑھا ہے اور وہ صرف نام وغیرہ لکھ سکتے ہیں۔
تاہم وہ اپنے علاقے میں فریقین کے مابین لڑائی جھگڑے اور دوسرے تنازعات میں ایک اچھے مُنصف کا کردار ادا کرنے پر مشہور ہیں اور مقامی لوگوں کے مطابق وہ ایک اچھے اور مخلص ثالث ہیں۔
طالبان کے حلقوں میں بہاول خان المعروف صلاح الدین ایوبی ایک بہادر کمانڈر کے نام سے مشہور ہیں۔
بہاول خان مُلا نذیر کی نسبت تھوڑے سخت مزاج ہیں۔
بہاول خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دو ہزار ایک میں امریکہ کی طرف سے افغانستان پر حملے کے بعد طالبان تحریک میں شامل ہوگئے۔ وہ کئی مرتبہ مُلا ندیر کے ہمراہ افغانستان جاتے رہے ہیں جہاں انھوں نے بگرام میں شمالی اتحاد کے خلاف افغان طالبان کے ہمراہ لڑائی میں حصہ بھی لیا۔ اس کے بعد کئی دفعہ مختلف محاذوں پر افغان طالبان کے ساتھ شامل ہوتے رہے ہیں۔
سنہ دو ہزار سات میں جب جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں مُلا نذیر نے غیر ملکی اُزبکوں کے خلاف کارروائی شروع کی تو اس میں بہاول خان نے نمایاں طور پر حصہ لیا۔ اس لڑائی کے بعد وہ مُلا نذیر گروپ میں اہم کمانڈر کے طور پر سامنے آئے۔






























