
پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان اور طالبان کے مفاہمتی عمل میں مددگار ثابت ہونے والے طالبان کی رہائی کا عمل جاری رہا تو تمام افغان طالبان رہا ہو جائیں گے۔
یہ بات دفترِ خارجہ کے ترجمان معظم خان نے ابو ظہبی میں سیکریٹری خارجہ جلیل جیلانی کے بیان پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے زیر حراست افغان طالبان کو رہا کرنے کا عمل شروع کیا ہوا ہے اور خاص طور پر وہ طالبان جو مفاہمتی عمل میں مددگار ثابت ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ عمل جاری رہا تو تمام افغان طالبان رہا کردیے جائیں گے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سیکریٹری خارجہ جلیل جیلانی نے ابو ظہبی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ’پاکستان ان تمام افغان طالبان کو رہا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو ہماری تحویل میں ہیں۔‘
سیکریٹری خارجہ نے ابوظہبی میں پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی ڈیوڈ پیئرس اور افغانستان کے نائب وزیر خارجہ جاوید لودین سے ملاقات کی۔
اس ملاقات کا مقصد پاکستان، امریکہ اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی اور سیاسی زاویے کے حوالے سے تعاون پر غور کرنا تھا۔
اس ملاقات کے بعد جلیل جیلانی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان اپنی تحویل میں تمام افغان طالبان کو رہا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ آیا پاکستان ملا برادر کو بھی رہا کرے گا تو انہوں نے وضاحت کیے بغیر کہا ’مقصد سب کو رہا کرنا ہے۔‘
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں امن کے قیام کے عمل میں گزشتہ چند ہفتوں میں تیزی آئی ہے۔ ’اس تیزی کی وجہ پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی رہائی، افغان طالبان کی جانب سے دوہا میں سیاسی دفتر کے قیام کی تیاریاں اور افغان صدر حامد کرزئی کا دورہ امریکہ ہے۔‘
واضح رہے کہ اسلام آباد میں سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ تقریباً ایک سو افغان طالبان پاکستان میں زیرِ حراست ہیں۔
پاکستان نے زیرِ حراست افغان طالبان کو رہا کرنے کا عمل پچھلے سال اس وقت شروع کیا تھا جب افغان امن کونسل کے اراکین نے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔






























