
طالبان کی سیاسی تحریک کے مستقبل کے سلسلے میں بھی پاکستان کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے
افغانستان میں طالبان کی شدت پسند تحریک کو سیاسی رخ دینے کے لیے پاکستان کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے اور حکومت پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ اہلکار حالیہ پیرس بات چیت کے بعد پرامید ہیں کہ اس سے طالبان کو بالآخر افغان سیاسی دھارے میں لانے میں مدد ملے گی۔
اسلام آباد میں تعینات افغان سفارت کار اور پاکستانی اہلکار ٹھوس نتائج سے عاری پیرس مذاکرات سے کسی بڑی پیش رفت کی امید نہیں کر رہے تھے لیکن ان کا کہنا ہے کہ بات چیت میں طالبان کی شرکت اور اپنا موقف واضح کرنے کو ہی ایک سیاسی تحریک کی تشکیل کی جانب پہلا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں طالبان نمائندوں مولوی شہاب الدین دلاور اور ڈاکٹر محمد نعیم کی پیرس میں تقاریر کی جانب توجہ دلائی جاتی ہے اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالبان نمائندوں کے طویل بیانات میں کہیں بھی جنگ کی بات نہیں کی گئی بلکہ سیاسی طریقے سے آئینی و انتظامی امور میں تبدیلی سے متعلق تجاویز دی گئی ہیں۔
ایک اعلیٰ افغان اہلکار کا کہنا ہے کہ پیرس بات چیت سے قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں کو تقویت ملی ہے۔’یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔‘
طالبان کی سیاسی تحریک کے مستقبل کے سلسلے میں بھی پاکستان کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ افغان اہلکار کا کہنا ہے کہ ’ہم پاکستان کی مصالحتی کوششوں میں مدد کی تعریف کرتے ہیں اور پرامید ہیں کہ دونوں ممالک مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔‘
افغان سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان کے ساتھ اس بارے میں جامع بات چیت کی ضرورت ہے۔ ’ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ اختلافی امور کو ابھی نہ چھیڑتے ہوئے ان امور پر بات آگے بڑھا سکتے ہیں جن پر دونوں ممالک کا اتفاق ہے یا مشترکہ فائدہ ہے۔ اختلافی امور پر بعد میں جب حالات سازگار ہوں گے تب بات کریں گے۔‘
اس بابت پاکستان کی جانب سے حالیہ دنوں میں دو مواقع پر طالبان قیدیوں کی رہائی کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان کے پاس اب بھی لگ بھگ سو طالبان قیدی ہیں جنہیں کالعدم تحریک پر دباؤ اور اپنی مرضی کی باتیں منوانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ان بدلتے حالات میں حقانی نیٹ ورک کا ذکر اب کم سے کم دیکھا جا رہا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ نیٹ روک بھی افغان حکومت اور طالبان کی قیادت میں رابطوں کے نتائج کا منتظر ہو۔
بظاہر اب جب مذاکرات کی روش چل پڑی ہے تو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق نہ تو امریکی اور نہ ہی افغان حکام پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا کوئی تازہ مطالبہ کر رہے ہیں۔






























