
پاکستان کی مذہبی یا سیاسی جماعتوں کے سربراہان پر کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے لیے حکومت کی ضمانت دینے کے لیے اعتماد کے اظہار پر محتاط ردِ عمل کا اظہار کیا گیا ہے مگر سب طالبان سے بات چیت کی ضرورت پر متفق نظر آتے ہیں۔
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک ویڈیو پیغام میں حکومت کو یہ دعوت اس شرط پر دی تھی کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن، نوازشریف اور سید منور حسن فوج یا حکومت کے لیے ضمانت دیں تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی نے اس سلسلے میں مسلم لیگ نون کے سینیٹر مشاہداللہ خان سے ان کی جماعت کا ردِ عمل جاننے کے لیے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک انتہائی حساس معاملہ ہے جو یہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے اور یہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے جس کی وجہ سے بہت ساری جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ہم یہ تو ضرور چاہتے ہیں کہ مذاکرات سے اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکلے‘۔
انہوں نے طالبان کی جانب سے اس بیان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بیان جس طرح سے آیا ہے اور اس معاملے کی حساسیت دیکھتے ہوئے یہ کس کا بیان ہے؟ اس کے پیچھے کون ہے؟ پھر یہ کہ جو تین جماعتیں ہیں نواز لیگ، جماعت اسلامی اور فضل الرحمٰن گروپ ان سب کی بھی آپس میں اس معاملے پر مشاورت ہونی چاہیے۔‘
"اصولی طور پر یہ سمجھتی ہے اور ہم چاہتے بھی یہ ہیں اور ہماری خواہش بھی یہ ہے کہ کہ یہ خطہ جو دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور اگر کسی قسم کے مذاکرات کے زریعے اس مسئلے اس میں پیش رفت ہو اور یہ حل ہو سکے تو یہ اس خطے کے لوگوں کے لیے ایک اچھی خبر ہو گی۔"
سینیٹر مشاہد اللہ خان پاکستان مسلم لیگ ن
مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ان کی جماعت کے سربراہ میاں نواز شریف یہاں پر نہیں ہیں اس لیے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس پر مشاورت کے بعد ہی کوئی بیان دے گی۔
"اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ ہم اصولی طور اس کے حق میں ہیں کہ مذاکرات ہونے چاہیں اور بات چیت ہو اور طالبان کا مؤقف سنا جا ئے اور اگر کسی طریقے سے بھی امن قائم ہو سکتا ہے تو اس کا قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔"
فرید پراچہ، جماعت اسلامی
جب اس معاملے میں جماعت اسلامی کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ فرید پراچہ سے جماعت اسلامی کا رد عمل جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’ایک بات تو یہ ہے کہ ہمارا تو کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے نہ طالبان سے نہ ان کے کسی گروہ سے اور نہ ہمیں کسی نے اس سلسلے میں کوئی رابطہ کیا ہے۔ یہ بات ہم تک میڈیا سے ہی پہنچی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت مذاکرات کے حق میں ہے اور طالبان کا مؤقف سنا جا ئے۔’اگر کسی طریقے سے بھی امن قائم ہو سکتا ہے تو اس کا قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے‘۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک ’جماعت اسلامی کی ضمانت کا تعلق ہے تو جماعتِ اسلامی اب تک ان معاملات میں کبھی نہیں آئی ہے‘۔
طالبان کی ضمانت دینے پر جمیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ کا ردعمل جاننے کے لیے جے یو آئی ف کے مرکزی رہنما مفتی ابرار سے رابطہ کیا گیا تو انہوں کہا کہ اس سلسلے میں پارٹی میں مشاورت جاری ہے اور مولانا فضل الرحمٰن مشاورت کے بعد خود اس بارے میں کوئی بیان دیں گے۔
کالعدم تحریکِ طالبان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے یہ بھی کہا تھا کہ ان مذاکرات سے پہلے حکومت کو ان کے پانچ ساتھیوں کو رہا کرنا ہوگا کیونکہ وہ ان کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہوں گے جن میں مالاکنڈ ڈویژن کے طالبان ترجمان مُسلم خان، مولانا محمود خان اور سابق ترجمان مولوی عمر شامل ہیں۔






























