’حکومت طالبان سے مذاکرات کا بِلا تاخیر آغاز کرے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 13:26 GMT 18:26 PST

بارود اور خون کے کھیل سے نفرتیں پھیلتی اور دوریاں پیدا ہوتی ہیں: نواز شریف

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے ایک بیان میں کہا ہے طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ کا یہ بیان ان کی جماعت کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں شائع کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ بارود اور خون کے کھیل سے نفرتیں پھیلتی اور دوریاں پیدا ہوتی ہیں، اور پاکستان اس کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔ طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیوں کہ پاکستان کے عوام کو امن کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ اس ماہ کی تین تاریخ کو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک ویڈیو پیغام میں حکومت کو اس شرط پر مذاکرات کی دعوت دی تھی کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن، نوازشریف اور سید منور حسن فوج یا حکومت کے لیے ضمانت دیں تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں۔

میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت، طالبان سے مذاکرات کے لیے بلاتاخیر سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز عمل کا آغاز کرے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو قوم و ملک کے مفاد کی خاطر خلوص اور کھلے دل کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ریکارڈ کے پیش نظر شاید کوئی بھی اس کی ضمانت نہ دے سکے لیکن ہم اس مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سینیٹر پرویز رشید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مذاکرات کو موقع دینا چاہیے۔ جو کام بھی بندوق کے زور پر ہوتے ہیں اگر ان کا حل بات چیت کے ذریعے ہو سکتا ہے تو پھر بات چیت کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ مذاکرات جتنی جلدی ہوں اتنی اچھی بات ہے کیوں کہ ایک دن کی تاخیر بھی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے۔

"حکومت، طالبان سے مذاکرات کے لیے بلاتاخیر سنجیدہ، بامقصد اور نتیجہ خیز عمل کا آغاز کرے۔"

نواز شریف

اس سے قبل طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش پر جماعت اسلامی کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ فرید پراچہ نے بھی اسی قسم کے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جماعت مذاکرات کے حق میں ہے اور ان کے مطابق طالبان کا مؤقف سنا جائے۔

انھوں نے کہا ’اگر کسی طریقے سے بھی امن قائم ہو سکتا ہے تو اس کا قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔‘

کالعدم تحریکِ طالبان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان نے یہ بھی کہا تھا کہ ان مذاکرات سے پہلے حکومت کو ان کے پانچ ساتھیوں کو رہا کرنا ہوگا کیونکہ وہ ان کی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہوں گے جن میں مالاکنڈ ڈویژن کے طالبان ترجمان مُسلم خان، مولانا محمود خان اور سابق ترجمان مولوی عمر شامل ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>