
تحریک طالبان کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ویلنٹائن ڈے کے موقع پر کل جماعتی کانفرنس کا انغقاد کرکے اپنی استمعار سوچ کا ثبوت دیا ہے
تحریک طالبان پاکستان نے اسلام آباد میں عوامی نیشنل پارٹی کی دعوت پر بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ اعلامیہ میں مذاکرات کے لیے کوئی روڈ میپ نہیں تھا بلکہ عوامی نیشنل پارٹی کے الیکشن مُہم کا ایک حصہ تھا۔
تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی دعوت پر بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس کے مُشترکہ اعلامیہ کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا حکیم اللہ محسود کی سربراہی میں ایک غیر معمولی اجلاس ہوا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس میں قبائلی علاقوں کے اھم کمانڈروں کے علاوہ سندھ، ؛پنجاب، بلوچستان اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے کمانڈروں نے حصہ لیا۔ اجلاس میں بتیس کمانڈر شریک تھے۔
انہوں نے کہا کہ کل جماعتی مُشترکہ اعلامیہ صرف پُرانے جملوں اور لفظوں کا مجموعہ ہے اور جماعت اسلامی کا شامل نہ ہونا عوامی نیشنل پارٹی کی دعوت پر بلائی گئی اجلاس پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی حکومت اور فوج کی طرف سے سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات کے منتظر ہیں۔ ترجمان کے مطابق مذاکرات کا راستہ قوم اور علاقے کی خاطر اختیار کیا ہے اور اس کو طالبان کی کمزوری نہ سھمجا جائے۔
یادرہے کہ جمعرات کو ہونے والی اس کانفرنس میں ملک کی ستائیس سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے حصہ لیا تھا۔ اس کانفرنس میں جماعتِ اسلامی اور تحریکِ انصاف نے شمولیت اختیار نہیں کی تھی۔
کانفرنس میں بتایاگیا تھا کہ عسکریت پسندی اور تشدد کا ناسور کسی ایک جماعت، صوبے یا علاقے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔






























