
مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کو افغان طالبان کے انتہائی قریب سمجھاجاتا ہے
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن طالبان اور امریکی حکام کے مابین جاری خفیہ مذاکرات میں شرکت کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے ہیں۔
ان کی جماعت کے اہم رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو امریکا اور افغان طالبان دونوں کی حمایت حاصل ہے اور وہ فریقین کے درمیان بات چیت میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
حافظ حسین احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمن امریکا اور طالبان کے مابین پہلے سے جاری مذاکرات میں پیش رفت کے بعد قطر گئے ہیں اور ان کے ساتھ قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک اور رکن اسمبلی بھی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالیہ مذاکرات میں افغان حکومت اور افغان امن کونسل کا کوئی نمائندہ شامل نہیں اور یہ مذاکرات امریکی حکام اور افغان طالبان کے مابین ہورہے ہیں۔
کابل میں موجود افغان امن کونسل کے ایک اہم رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں مولانا فضل الرحمن کے دورۂ قطر کے حوالے سے کوئی علم نہیں اور نہ اس بارے میں اس بارے میں افغان حکومت کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی افغان حکام کو شکایت رہی ہے کہ امریکہ ان کے علم میں لائے بغیر طالبان کے ساتھ براہ راست معاملات طے کر رہا ہے۔
"مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کو افغان طالبان کے انتہائی قریب سمجھاجاتا ہے۔ ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستانی طالبان نے بھی انہیں حکومت پاکستان کے ساتھ کے ساتھ مذاکرات میں اپنا ضامن تسلیم کیا ہے۔"
احمد ولی مجیب، بی بی سی نیوز
افغان طالبان بھی مذاکرات کے حوالے سے امریکی حکومت کو ہی اپنا فریق مانتے ہیں اور ان کا شروع سے موقف رہا ہے کہ امریکی حکام سے مذاکرات کے بعد ہی افغان حکام سے بات چیت ہو سکتی ہے۔
قطر میں طالبان کے دفتر کے کھلنے کی خبریں بھی کافی عرصے سے گردش میں ہیں۔ طالبان کے ایک درجن کے قریب سیاسی ممبران گزشتہ ایک سال سے قطر میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں لیکن افغان طالبان نے ابھی تک اپنے دفتر کے باقاعدہ آغاز کی تصدیق نہیں کی ہے۔
یہ تاحال واضح نہیں کہ مولانا فضل الرحمن اس بات چیت میں پاکستانی حکومت کے نمائندے کے طور پر شریک ہیں یا ان کا کردار ثالث کا ہے۔ افغان طالبان کی طرف سے بھی مولانا فضل الرحمن کو بطور ثالث مقرر کرنے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کو افغان طالبان کے انتہائی قریب سمجھاجاتا ہے۔ ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستانی طالبان نے بھی انہیں حکومت پاکستان کے ساتھ کے ساتھ مذاکرات میں اپنا ضامن تسلیم کیا ہے۔
جمعیت علماءاسلام پاکستان کی بڑی سیاسی مذہبی جماعت ہے اور خیبر پختونخوا، فاٹا اور بلوچستان میں اس کا کافی اثرورسوخ ہے۔






























