
تاجک پس منظر رکھنے والے جنرل بسم اللہ کا جی ایچ کیو میں پر تپاک استقبال کیا گیا
افغانستان اور پاکستان کی فوجی قیادت نے افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کو ’پر امن اور تشدد سے پاک‘ رکھنے کے لیے بعض اہم نکات پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اتفاق دونوں ملکوں کی فوجی قیادت کے درمیان اعلیٰ سطح کے جامع اور سٹریٹیجک مذاکرات کے دوران حاصل کیا گیا جو سوموار کے روز پاکستانی فوج کے صدر دفتر (جی ایچ کیو) میں ہوئے۔
افغان وزیر دفاع جنرل بسم اللہ خان نے ایک وفد کے ہمراہ پاکستانی فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی۔
ان مذاکرات کا مقصد اعلیٰ فوجی ذرائع خطے سے امریکی انخلا کے بعد علاقے میں سکیورٹی صورتحال کو اپنے حق میں رکھنے کے لیے حکمت عملی کی تیاری بتایا جا رہا ہے۔
پاکستانی فوج کے ذرائع کے مطابق پاکستانی اور افغان فوجی قیادت کے درمیان یہ ملاقات افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد خطے کی منظر کشی کی مشق کا حصہ تھی۔ اس طویل گفتگو میں پاکستانی اور افغان فوج کے تقریباً تمام اہم افسران شریک تھے۔
ان مذاکرات سے واقف ایک سینئر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں وفود کے درمیان امریکی انخلا کے پس منظر میں بعض بنیادی نوعیت کے معاملات پر گفتگو کا آغاز کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں امریکی انخلا کے بعد پاک افغان سرحد پر دونوں ملکوں کے مشترکہ کنٹرول، دونوں ملکوں کے سرحدی محافظوں کے درمیان مضبوط روابط، افغان امن عمل میں پاکستانی کردار، دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تربیت کے معاہدے اور سرحدی علاقوں میں سماجی اور معاشی ترقی کے معاملات شامل تھے۔
فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی بری فوج کے سربراہ نے افغان وزیر دفاع کو ’مکمل اور حتمی‘ یقین دہانی کروائی کہ پاک افغان سرحد پر امن قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی تاکہ ’افغانستان میں استحکام پیدا کیا جا سکے اور اگلے سال اتحادی افواج کے انخلا کو پرامن اور تشدد سے پاک رکھا جا سکے‘۔
تاجک پس منظر رکھنے والے جنرل بسم اللہ کا جی ایچ کیو میں پر تپاک استقبال کیا گیا۔ بعض فوجی حکام کا کہنا ہے کہ غیر پشتون افغان جنرل کے ساتھ پاکستانی فوجی صدر دفتر میں رسمی مذاکرات سے پہلے بہت دوستانہ اور غیر رسمی گفتگو ہوئی۔
اس دوران افغان وفد کو یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ افغانستان میں صرف پشتون ہی نہیں بلکہ غیر پشتون قوتوں کے ساتھ بھی برابری کی سطح کے تعلقات چاہتی ہے۔
جنرل بسم اللہ خان محمدی آٹھ برس تک افغان فوجی سربراہ رہنے کے بعد دو ہزار دس میں وزیر داخلہ اور اور گزشتہ برس وزیر دفاع کے عہدے پر فائز ہوئے۔
ان کے ہمراہ پاکستان کے پانچ روزہ دورے پر آنے والوں میں لیفٹنٹ جنرل باز محمد جواہری (نائب وزیر دفاع)، میجر جنرل افضال امان (ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز)، میجر جنرل عبدالمنان فراحی (ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس) اور میجر جنرل پائندہ محمد ناظم (انسپکٹر جنرل ٹریننگ) شامل ہیں۔
پاکستان کی جانب سے ان افغان فوجی افسروں کے ہم منصبوں کے علاوہ بھی بعض اہم فوجی افسران اس مشاورت میں شامل رہے۔






























