
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے
افغانستان کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر زلمے رسول نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستانی علاقے میں ہونے والے حملوں کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم اس علاقے میں امن قائم کرنا ایک مشکل عمل ہے۔
انہوں نے یہ بات پاکستانی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر سے بات چیت کے بعد اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔
زلمے رسول جمعہ کو پاکستان کے ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ اُن کے ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبہ کُنٹر اور نورستان سے پاکستانی علاقے میں ہونے والے حملے روکنے کے لیے افغان حکومت مسلسل کوششیں کر رہی ہے لیکن وہاں امن و امان کا قیام مشکل کام ہے۔
افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اُن کے ملک میں یہ مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مل کر امن عمل کو جاری رکھا جائے۔
اس موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اپنے افغان ہم منصب کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کے بطور سہولت کار کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے اور پاکستان یہ کردار ادا کر رہا ہے اور کرتا رہے گا۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان کابل میں جنوری میں ہونے والی پاک افغان علماء کانفرنس میں بھی شرکت کرے گا۔ پاکستانی سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے پریس کانفرنس کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اس کانفرنس میں دنیا بھر کے علماء کو دعوت دی جائے گی جس میں خودکش حملوں سے متعلق حتمی رائے کے بارے میں اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گردی دونوں ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے اور مذاکرات کا تسلسل ضروری ہے تاکہ مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
افغان امن کونسل کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کونسل کا دورہ کامیاب رہا جس کے دوران افغان قیدیوں کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔






























