
پاکستان نے افغان حکومت سے اُن کی جیلوں میں قید کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی قیدیوں سے کی جانے والی تحققیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا کہا ہے
پاکستانی حکومت نے افغان حکومت سے اُن کی جیلوں میں قید کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے پچیس سے زائد پاکستانی قیدیوں سے اب تک کی جانے والی تحققیات سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا کہا ہے۔
اس کا مقصد پاکستان میں گُزشتہ دو سال کے دوران ہونے والے خودکش اور بم دھماکوں کے مقدمات کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے اور اصل کرداوں کو بےنقاب کرکے اُن کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا ہے۔
اس ضمن میں وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری سطح کے ایک افسر کو ذمہ داری سونپی گئی ہے جو افغان وزارت داخلہ کے افسران سے رابطہ کرکے ان افراد سے ہونے والی تحقیقات کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔
اس سے پہلے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے درمیان شدت پسند تنظیموں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ ہوتا رہا ہے لیکن کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد سے کی جانے والی تحقیقات کے بارے میں معلومات شریک نہیں کئے۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس ضمن میں پاکستانی وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے متعقلہ حکام کا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے جس میں اس معاملے پر غور کیا گیا کہ گُزشتہ دوسال میں پاکستان میں ہونے والے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے مقدمات میں اصل ملزمان تک پہنچنے کے لیے افغان جیلوں میں قید کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد سے پوچھ گچھ انتہائی ضروری ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اس ضمن میں پاکستانی وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے متعقلہ حکام کا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے جس میں اس معاملے پر غور کیا گیا کہ گُزشتہ دوسال میں پاکستان میں ہونے والے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے مقدمات میں اصل ملزمان تک پہنچنے کے لیے افغان جیلوں میں قید کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد سے پوچھ گچھ انتہائی ضروری ہے
ذرائع کے مطابق خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مختلف جیلوں میں قید کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد سے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے مقدمات سے متعلق کی جانے والی تحقیقات میں ان حملوں کے ماسٹر مائینڈ اور دیگر اہم کرداروں کے بارے میں انکشافات کیے ہیں۔ان ملزمان کے بقول پچیس سے زائد افراد افغانستان کی جیلوں یا دیگر علاقوں میں موجود ہیں۔
ان افراد میں گُل محمد، نذیر خان، طاہر منیر، جاوید تبسم اور اشرف کاکاخیل کے علاوہ دیگر افراد بھی شامل ہیں جن کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی سے بتایا جاتاہے۔ یہ افراد افغانستان کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔
وزیر داخلہ رحمان ملک متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والے شدت پسندی کے واقعات میں ملکی اور سرحد سے پار ( افغانستان) میں کام کرنے والی کالعدم تنظیمیں ملوث ہیں۔
وزارت خارجہ کی طرف سے لاپتہ افراد سے متعلق سپریم کورٹ اور انسانی حقوق سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں میں جمع کروائی جانے والی رپورٹ کے مطابق افغان جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد ساٹھ کے قریب ہے تاہم ان میں وہ افراد شامل نہیں ہیں جنہیں افغان قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شدت پسندی کے مقدمات میں گرفتار کیا ہے۔
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق گُزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ملک میں ہونے والے خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے اکثر واقعات کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے جبکہ پاکستانی جیلوں میں قید کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد سے پوچھ گچھ کے دوران کچھ مزید حقائق سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب افغانستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر زلمے رسول تیس نومبر کو ایک دن کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ اُنہیں اس دورے کی دعوت پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے دی ہے۔ اس دورے کے دوران دو نوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے علاوہ علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق افغان وزیر خارجہ کے ساتھ ایک اعلی سطحی وفد بھی ہوگا۔
ذرائع کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات میں افغانستان کی جیلوں میں قید شدت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی قیدیوں سے تفتیش کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
اس ملاقات میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ممکنہ سٹریٹیجیک معاہدے کے بارے میں بھی غور ہوگا اس کے علاوہ اس سال جون میں صلاح الدین ربانی کی سربراہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والی ہائی پیس کونسل کی سفارشات پر بھی غور کیا جائے گا۔






























