
پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی کے مطابق دس دسمبر سے کوئٹہ سے افغانستان کے شہر قندھار کے لیے پروازیں شروع کی جا رہی ہیں۔
یہ بات پی آئی اے کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کو ایک بریفنگ میں بتائی۔
بہت طویل عرصے کے پی آئی اے نے کسی نئی منزل سے متعلق کوئی فیصلہ لیا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں معاہدہ طے پایا تھا جس کے مطابق پشاور سے جلال آباد اور کوئٹہ سے قندھار کے درمیان بس سروس شروع کی جانا تھا۔
اس کے علاوہ معاہدے کے مطابق کوئٹہ سے قندھار تک ریلوے لائن بھی بچھائی جانی تھی جسے بعد میں توسیع دے تک وسطی ایشیا تک جانا تھا۔
حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اس پوزیشن میں ہے کہ ریلوے لائن بچھائی جائے لیکن افغانستان کی حکومت تاحال این اور سی اور سکیورٹی فراہم نہیں کر پائی ہے۔
واضح رہے کہ پاک افغان سرحد پر پاکستانی سرحدی علاقے سے روزانہ پندرہ سے بیس ہزار لوگ افغانستان سرحدی علاقے سپن بولدک میں داخل ہوتے ہیں۔ ان منصوبوں سے ان لوگوں کو کافی فائدہ پہنچے گا۔
پی آئی اے کی چیئرمین اور سیکرٹری دفاع لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک کا کہنا تھا کہ نئی انتظامیہ اس فضائی کمپنی کو صرف اس کے اپنے عملے اور حکومت کے لیے ہی نہیں بلکہ مسافروں کے لیے بھی دوستانہ بنانا چاہتی ہے۔ اس ملاقات میں کئی دیگر اعلی اہلکار بھر شریک تھے۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا انہیں پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز پر پورا اعتماد ہے کہ وہ مسافروں کے لیے زیادہ دوستانہ ماحول پیدا کرنے میں کامیاب سو سکے گی۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے پہلے بھی کئی منصوبوں کا اعلان کیا گیا جنہیں عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا، اس لیے پی آئی اے کے اس نئے اعلان پر جب تک عمل درآمد نہیں ہوگا اسے عوامی حلقوں میں شک کی نگاہ سے ہی دیکھا جائے گا۔






























