پی آئی اے ملازمین کا احتجاج،آپریشن متاثر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کی بین الاقوامی ائر لائن پی آئی اے کے عملے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہڑتال کے اعلان سے فضائی کمپنی کا فلائٹ آپریشن متاثر ہو رہا ہے اور ہڑتال کی وجہ سے کچھ بین الاقوامی اور مقامی پروازیں منسوخ اور ملتوی بھی کی گئی ہیں۔
پاکستان ائر لائن پائلٹ ایسوسی ایشن کے صدر سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ احتجاج پر اثر رہا ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد اور لاہور کے ہوائی اڈوں سے آپریشن مکمل طور بند ہے جب کہ کراچی سے کچھ پروازیں چلائی گئی ہیں۔
کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ احتجاج کی وجہ سے صرف اسلام آباد ایئرپورٹ متاثر ہوا ہے کہ جب کہ کراچی میں جو پراوزیں تاخیر کا شکار ہوئی ہیں ان کی وجوہات فنی تھیں۔
پی آئی اے کے مطابق روزانہ سوا سو تک پروازیں اندرون ملک اور بیرون ملک پروازیں ہوتی ہیں جن میں سالانہ ساٹھ لاکھ مسافر سفر کرتے ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ پی آئی اے انتظامیہ ترکش ایئرلائن سے کیا جانے والا وہ معاہدہ منسوخ کرے جس کے تحت پی آئی اے کی امریکہ اور یورپ جانے والی پراوازوں کے مسافر اب ترکش ایئر لائن کے حوالے کیے جائیں گے مگر پی آئی اے کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی معاہدہ ہی نہیں کیا گیا۔
پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے بتایا کہ یونین کی اطلاعات غلط ہیں ترکش ائر لائین سے کوئی معاہدہ ہوا ہی نہیں جسے منسوخ کیا جائے۔
’ ترکش ایئر لائین سے مسافروں کا تبادلہ تو پچھلے آٹھ سالوں سے جاری ہے، اگر دو فریق کسی روٹ پر نقصان میں جا رہے ہوں تو پھر وہ مسافر شیئر کر لیتے ہیں تاکہ نقصان سے بچا جا سکے، اس سے اخراجات مساوی ہوجاتے ہیں‘۔
مشہود تاجور کے مطابق ملازمین کو غلط اطلاع ملی ہے کہ اس سے پی آئی اے کے روٹس فروخت ہوجائیں گے درحقیقت پی آئی اے کسی کو روٹ فروخت کر ہی نہیں سکتی کیونکہ یہ روٹس حکومت پاکستان کی ملکیت ہیں، ایئر لائن تو صرف استعمال کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان ائر لائن پائلٹ ایسوسی ایشن کے صدر سہیل بلوچ پی آئی اے انتظامیہ کا موقف مسترد کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کارپوریشن نے ترکش ائر لائین سے مفاہمتی یادشت پر دستخط کیے ہیں اور اس حوالے سے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق حکام کراچی چیمبر، وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت اور اسلام آباد پریس کلب میں جاکر بریفنگ دے چکے ہیں۔
’ظاہر ہے معاہدہ ہونے سے پہلے اس کو روکیں گے ورنہ کہا جائےگا کہ پہلے بتانا تھا اب تو ہم نے معاہدہ کر لیا، یہ معاہدہ پی آئی اے اور ملک کے مفاد میں نہیں ہے‘۔
دوسری جانب صدر آصف علی زرداری کے سیاسی معاون اور دفاع کے بارے میں سٹینڈنگ کمیٹی کے رکن فیصل رضا عابدی کا کہنا ہے کہ ترکش ایئر لائین سے مذاکرات ہوئے ہیں مگر معاہدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’پی آئی اے کے دو سابق چیئرمینوں سے مشاورت کی گئی ہے انہوں نے تائید کی ہے کہ یہ انتہائی منافع بخش روٹس ہیں جہاں پی آئی اے کی سروس نہیں جاتی ہے وہاں ترکش ایئر لائین سے شیئرنگ کی جائے۔ روٹس فروخت نہیں کیے گئے جس کا ذکر کیا جا رہا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے پاس صرف چالیس جہاز ہیں جب کہ دنیا میں ایسے کئی شہر ہیں جہاں پاکستانی رہتے ہیں مگر وہاں پی آئی اے کی سروس نہیں اس لیے ترکش ائر لائین سے شیئرنگ کی گئی ہے۔ جس کے تحت ان شہروں سے ترکش ائر لائن پاکستانی شہریوں کو استنبول لائیگی اور وہاں سے پی آئی اے انہیں کراچی، اسلام آباد اور لاہور پہنچائے گی ۔
دریں اثنا حکومت کی جانب سے پاکستان ائر لائن پائلٹ ایسوسی ایشن کے صدر سہیل بلوچ اور جنرل سکریٹری کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں، تنطیم کا کہنا ہے کہ چھ کپتانوں کو معطل بھی کیا گیا ہے مگر پی آئی اے انتظامیہ اس کی تصدیق نہیں کرتی۔
ملازمین کی جوائنٹ ایکنش کمیٹی نے ابتدائی طور پر بارہ گھنٹے احتجاج کا اعلان کیا تھا مگر اب ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ جب تک معاہدہ منسوخ نہیں کیا جاتا ہے اور مینجنگ ڈائریکٹر کی برطرفی نہیں ہوتی احتجاج جاری رہے گا۔







