پی آئی اے کا خسارہ چھیانوے ارب سے زیادہ

پی آئی آئی
،تصویر کا کیپشنپی آئی اے پر ایک سو چالیس ارب روپے بینکوں کا قرضہ ہے

پاکستان کی قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ ریاستی فضائی کمپنی’پی آئی اے‘ کا خسارہ چھیانوے ارب روپے سے بڑھ گیا ہے۔

پیر کو ’پی اے سی‘ کا اجلاس حکمران جماعت کی رکن اسمبلی یاسمین رحٰمن کی زیر صدارت منعقد ہوا اور’پی آئی اے‘ کے مینجنگ ڈائریکٹر نےکمیٹی کو بتایا کہ ان کی کوشش ہے کہ کمپنی کو جلد خسارے سے نکالا جاسکے۔

اسلام آباد سے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق ’پی آئی اے‘ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ گزشتہ اٹھائیس برس سے کمپنی کو منافع بخش بنانے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن بعض مواقعوں کے علاوہ اکثر یہ خسارے میں چلتی رہی ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ’پی آئی اے‘ پر بینکوں کا قرضہ ایک سو چالیس ارب روپے ہو چکا ہے۔

پی آئی اے کے خسارے میں چلنے کی بڑی وجوہات میں دیگر فضائی کمپنیوں کی نسبت ضرورت سے زیادہ ملازمین کی بھرتی، غیر فعال انتظامی معاملات اور مالیاتی بے ضابطگیاں شامل ہیں۔

اجلاس میں مالی سال سنہ دو ہزار چھ کے حساب کے آڈٹ کے بارے میں جب غور ہوا تو اجلاس کو بتایا گیا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے سنگاپور کی ایک کمپنی کو کھانے کا ٹھیکہ دینے پر اعتراض کیا ہے۔

آڈیٹر جنرل کے مطابق جس غیر ملکی کمپنی کو یہ ٹھیکہ ملا اس نے پاکستانی کمپنیوں کی نسبت پچاس سے اسی روپے تک زیادہ چارج کیا اور انہوں نے آگے یہ ٹھیکہ پاکستان کی کمپنی کو ہی دیا۔

ایک موقع پر ’پی آئی اے‘ حکام نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا کہ نیو یارک اور پیرس میں واقع ہوٹلز کی نجکاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس کو مسلم لیگ (ن) کے رکن زاہد حامد نے بتایا کہ کمیٹی کے چیئرمین چوہدری نثار علی خان نے انہیں پیغام دیا ہے کہ کمیٹی فوج کے ٹرانسپورٹ کے ایک ادارے ’این ایل سی‘ میں مالی خرد برد کی تحقیقات کی رپورٹ تیس جون تک طلب کرے۔

جس پر کمیٹی نے اجلاس میں موجود سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) اطہر علی کو ہدایت کی کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سات ماہ قبل ’این ایل سی‘ کے اربوں روپے سٹاک مارکیٹ میں ڈوبنے کی جانچ کے لیے جو کمیٹی بنائی تھی اس کی رپورٹ تیس جون تک پیش کی جائے۔

جس پر سیکریٹری دفاع نے کہا کہ وہ کمیٹی کی اس ہدایت کے بارے میں آرمی چیف کو مطلع کردیں گے۔