پی آئی اے کے ایم ڈی مستعفی، احتجاج ختم

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کی قومی ائرلائن پی آئی اے کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے چوتھے روز ادارے کے مینجنگ ڈائریکٹر اعجاز ہارون مستعفی ہوگئے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کے سیاسی معاون فیصل عابدی نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیا ہے اور ان کی جگہ ندیم خان یوسف زئی کو ادارے کا نیا ایم ڈی مقرر کیا گیا ہے۔
ایم ڈی کے مستعفی ہونے کے بعد ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چار روز سے جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
جمعہ کو اسلام آباد کے بینظیر بھٹو ائر پورٹ پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور وزیر دفاع احمد مختار اور وزیر داخلہ رحمان ملک کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جس میں حکومتی عہدیداروں نے کہا تھا کہ اعجاز ہارون مستعفیٰ ہو گئے ہیں۔
<link type="page"><caption> حکومت، پی آئی اے مذاکرات تعطل برقرار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/02/110210_pia_strike_protest_sz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال:تصاویر </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/02/110210_pia_strike_protest_nj.shtml" platform="highweb"/></link>
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق اس سے پہلے پاکستان کی قومی ایئر لائن نے تصدیق کی تھی کہ ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر اس کے تمام آپریشن معطل ہیں۔
پی آئی اے کے ترجمان مشہود تجور نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ قومی ایئر لائن کی کسی پرواز کی روانگی اور نہ ہی آمد ہوئی ہے، ان کے مطابق چار روز میں کوئی ڈھائی سو سے زائد پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کراچی کے مرکزی علاقے صدر میں واقع پی آئی اے کے مرکزی بکنگ آفس کو بھی بند کرا دیاگیا تھا، حکام کا کہنا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے زبردستی بکنگ آفس بند کرایا۔
جمعہ کو پولیس نے جناح ٹرمینل پر لاٹھی چارج کرکے احتجاج کرنے والے ملازمین سے لاونج کو خالی کرا لیا تھا۔ اس سے قبل پولیس نے ملازمین کو متنبہ کیا تھا کہ ایئرپورٹ پر دفعہ 144 کا نافذ کردیا گیا اور وہاں کوئی اجتماع نہیں کیا جاسکتا تھا۔مگر جب ملازمین نے وہاں سے ہٹنے سے انکار کر دیا تو پولیس نے لاٹھی چارج کرکے انہیں منتشر کردیا۔اس دوران کئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
پی آئی اے گزشتہ کئی سالوں سے خسارے کا شکار ہے، ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صرف تین روز میں ایک ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ ایم ڈی ہر مہینے دو ارب روپے کا نقصان کرتے آئے ہیں، اب جو نقصان ہو رہا ہے وہ پی آئی اے کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے ہو رہا ہے۔
خیال رہے کہ ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی یورپ اور امریکہ کے روٹس کے مسافر ترکش ائر لائن کے حوالے کرنے پرگزشتہ دو روز سے سراپا احتجاج تھے اور بعد میں انہوں نے ایم ڈی اعجاز ہارون کی برطرفی کا بھی مطالبہ کر دیا تھا۔







