پی آئی اے کے سستے کرائے ختم

،تصویر کا ذریعہAP
پاکستان کی قومی ایئر لائنز پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے اندرون ملک سفر کے لیے اپنے کرایوں کے نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے تمام سستے کرائے ختم کر دیےہیں۔
پی آئی اے نے بظاہر تو کرایوں میں اضافہ نہیں کیا مگر کرایوں کی کلاسز ختم کرنے سے تکنیکی طور پر پی آئی کےاندرونِ ملک کرایوں میں بیس سے پچاس فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔
یاد رہے کہ پی آئی اے اندرونِ ملک پروازوں میں تین سفری کلاس مہیا کرتی ہے جو بالترتیب اکانومی ، اکانومی پلس اور بزنس کلاس کہلاتی ہیں۔
اس سے پہلے پی آئی اے اکانومی کلاس ہی میں پانچ مختلف کرائے پیش کرتی تھی جس تحت کراچی سے اسلام آباد کا یک طرفہ کرایہ ساڑھے چار ہزار سے ساڑھے نو ہزار روپیہ علاوہ ٹیکس ہوتا تھا۔ مگر پی آئے اے نے فیصلہ کیاہے کہ اب کریوں کے تمام درجوں کو ختم کرتے ہوئے صرف سب سے زیادہ کرایہ ہی لاگو رہے گا۔
پی آئی اے کے اس قدم سے مسافروں کے مالی بوجھ میں اضافہ ہوگیا ہے اور اب انہیں سستا ٹکٹ نہیں مل سکتا۔
پی آئی اے کے ترجمان سلطان حسن نے اس تبدیلی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے نے کرائے میں اضافہ نہیں کیا اور صرف رعایتی کرایوں کو ختم کر دیا ہے کیونکہ اکتوبر سے فروری تک پیک سیزن ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رعایتی کرایہ مارکیٹنگ کا ایک طرح سے ہتھیار ہوتا ہے جو اب بند کر دیا گیا ہے۔
تاہم کراچی کے ایک ٹریول ایجنٹ محمد جاوید نے اس بارے میں بی بی سی اردو کے حسن کاظمی کو بتایا کہ مسافروں کی تعداد پہلے ہی کم تھی اور اب تو اس میں مزید کمی کاخدشہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے مزید کہا کہ ’ملک میں ٹرینیں پہلے ہی بند ہو چکی ہیں اور پی آئی اے نے موقع غنیمت جان کر پیسےکمانے کا نیا بہانہ ڈھونڈا ہے‘۔
ان کے مطابق ’پہلے کراچی سے اسلام آباد کا یکطرفہ ٹکٹ پانچ سے آٹھ ہزار کا ملتا تھا مگر اب یہ ساڑھے نو ہزار کا ہی ملے گا‘۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اب پاکستان میں اندرون ملک چلنے والی دیگرایئرلائنزبھی اپنےکرایوں میں اضافہ کردیں گی۔
پی آئی اے بکنگ آفس پر ٹکٹ خریدنے کے لیے آئے ہوئے ایک مسافر کا کہنا تھا کہ ’یہ ٹکٹ میں اضافہ ہی کہلائے گا کیونکہ میں اکثر سفر کرتا رہتا ہوں۔ میں نے چودہ پندرہ ہزار روپے کا اسلام آباد کراچی کا دو طرفہ ٹکٹ لے کر سفر کیا ہے مگر اب تو یہ اٹھائیس ہزار سے بھی زیادہ کا ملےگا۔
چاہے تکنیکی معاملات ہوں یا مارکیٹنگ کا کوئی حربہ ایک بات صاف ہے کہ پاکستان کے عوام کے اندرون ملک سفر میں اب ایک اور رکاوٹ کھڑی ہوگئی ہے۔







