
پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے افغانستان میں قیام امن اور مصالحتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے کچھ طالبان نمائندوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر افغان حکام کا کہنا ہے کہ اب پاکستان سے ان طالبان رہنماؤں کی فہرست پر بات چیت جاری ہے اور افغان مذاکرات کار مزید ایک دن پاکستان میں قیام کریں گے۔
اسلام آباد میں موجود افغان وفد کے اہم رکن نصر اللہ ستنکزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم تاحال بات چیت میں مصروف ہیں اور فی الحال کوئی قیدی رہا نہیں کیا گیا ہے۔ یہ عمل شروع ہوگا لیکن میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ اس فہرست میں کن افراد کے نام ہیں‘۔
نصر اللہ ستنکزئی کا کہنا تھا کہ کچھ تکنیکی مسائل کی وجہ سے ہم تاحال پاکستان میں ہیں اور جمعرات کو کابل جائیں گے تاہم افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ قیام کی مدت میں اضافے کا مقصد مزید طالبان قیدیوں سے ممکنہ ملاقات ہے۔
افغان امن کونسل کے سینیئر رکن عبدالحمید مبارز نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا یہ اقدام افغانستان میں قیامِ امن کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔
اس ملاقات کے بعد بدھ کی رات ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ افغان حکومت کی درخواست پر پاکستان میں زیرِحراست کچھ طالبان رہنماؤں کو رہا کیا جا رہا ہے۔
اعلامیے میں پاکستان اور افغانستان کی جانب سے طالبان اور دوسرے مسلح گروپوں سے افغانستان میں جاری مصالحتی عمل میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ تمام متعلقہ ممالک بشمول پاکستان،افغانستان اور امریکہ مصالحت کاروں کو مصالحتی عمل آگے بڑھانے کے لیے محفوظ راستہ اور سہولتیں دیں گے۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان اور افغانستان دوسرے بین الاقوامی شریک کاروں سے مل کر کوشش کریں گے کہ مصالحت پر آمدہ طالبان اور دوسرے رہنماؤں پر اقوام متحدہ کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں ہٹائی جائیں تاکہ وہ بات چیت میں حصہ لے سکیں۔
"ہم تاحال بات چیت میں مصروف ہیں اور فی الحال کوئی قیدی رہا نہیں کیا گیا ہے۔ یہ عمل شروع ہوگیا لیکن میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ اس فہرست میں کن افراد کے نام ہیں۔"
نصر اللہ ستنکزئی
افغان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ رہا کیے جانے والوں میں طالبان کے سابق وزیرِ انصاف ملا ترابی اور دو انٹیلی جنس حکام شامل ہیں۔
اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گورین کے مطابق یہ بات بڑی اہم ہے کہ طالبان کے اہم رہنما ملا عبدالغنی برادر بظاہر رہا کیے جانے والوں میں شامل نہیں ہیں۔
افغان حکام کے خیال میں وہ ملا برادر طالبان کو امریکہ اور نیٹو افواج کے ساتھ دس سال تک لڑنے کے بعد بھی امن کے لیے آمادہ کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق رہائی کا یہ اعلان بہت اہم ہے اور انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ جب یہ طالبان اپنے وطن واپس جائیں گے تو یہ دوسرے طالبان کو امن مذاکرات میں شرکت کے لیے مائل کر سکیں گے۔
افغان حکام خاصے عرصے سے پاکستان میں مقید طالبان قیدیوں کی رہائی کے لیےاس امید پر کوششیں کرتے رہے ہیں کہ چوٹی کے باغی کمانڈروں سے براہِ راست رابطے کی مدد سے امن مذاکرات کو تقویت ملے گی۔
ایک افغان عہدے دار نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہمیں پورا یقین نہیں ہے کہ وہ امن مذاکرات میں کوئی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن یہ پاکستان کی طرف سے امن کوششوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔‘
افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سیاسی مصالحت کو تجزیہ کار افغانستان میں نیٹو افواج کے 2014 میں انخلا کے بعد استحکام بخشنے کا سب سے مؤثر طریقہ قرار دے رہے ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعلان افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کی بڑی کامیابی ہے، جو اسلام آباد میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بداعتمادی کو کم کروانے کی لیے کوشاں ہے۔






























