
ماضی میں طالبان تحریک نے رہا ہونے والے رہنماؤں کو دوبارہ قبول کرنے سے انکار کیا ہے(فائل فوٹو)
افغانستان میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ حکومتِ پاکستان کئی طالبان رہنماؤں کو رہا کرنے پر رضامند ہوگئی ہے۔ اس بابت پاکستان کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان اب تک سامنے نہیں آیا ہے لیکن جن طالبان رہنماؤں کی رہائی کی بات کی جا رہی ہے ان میں سابق افغان وزیر انصاف مولانا نور الدین ترابی کا نام سامنے آ رہا ہے۔
افغانستان کے جنوبی صوبے اورزگان سے تعلق رکھنے والے ملا نورالدین ترابی اچکزئی قبیلے سے ہیں۔
ملا ترابی طالبان سوچ اور نظریات کے کٹر حامی بتائے جاتے ہیں۔
ان کا شمار پرانے طالبان رہنماؤں میں ہوتا ہے اور اسی وجہ سے وہ ممکنہ طور پر طالبان تحریک کے رہنما ملا محمد عمر کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں سے ایک مانے جاتے تھے۔
انیس سو ستانوے سے لے کر دو ہزار ایک تک وزارتِ انصاف کا قلمدان سنبھالنے والے ملا نور الدین طالبان کی سزاؤں اور قوانین پر انتہائی سختی سے عمل درآمد کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کی خصوصی توجہ مردوں کے لیے داڑھی اور عورتوں کے لیے برقعہ سے متعلق پابندی پر رہتی تھی۔
کہا جاتا ہے کہ وہ کابل میں وزارتِ انصاف کے دفتر کے باہر بیٹھ کر آتے جاتے لوگوں پر نظر رکھتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر بھی ایسے ایک دو افراد کی پٹائی کی تھی۔ وہ یہ ایک ایسے وقت تک کرتے رہے جب کابل میں طالبان وزراء پر قاتلانہ حملے بھی ہو رہے تھے۔
تقریباً ساٹھ سالہ ملا ترابی طالبان میں شمولیت سے قبل ملا محمدی کی حرکت انقلاب اسلامی اور مولوی عبدالرسول سیاف کی اتحاد اسلامی سے تعلق رکھتے تھے۔ اسّی کی دہائی میں مجاہدین کے ساتھ روسی افواج کے خلاف جدوجہد کے دوران لڑتے ہوئے وہ اپنی ایک آنکھ اور ایک ٹانگ سے محروم ہوگئے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ ملا ترابی سنہ دو ہزار سات میں کراچی سےگرفتار ہوئے تھے۔
مبصرین کے مطابق ماضی میں ایسے طالبان رہنما جو گرفتاری اور اسیری کے بعد رہا کیے گئے انہیں طالبان تحریک نے دوبارہ قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس کی مثال سابق طالبان وزیرِ خارجہ وکیل احمد متوکل اور پاکستان میں طالبان سفیر ملا ضیعف شامل ہیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ ملا ترابی کی رہائی کے بعد کیا طالبان یہی رویہ اپنائیں گے؟






























