
دورے کے دوران صلاح الدین ربانی کی وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقات
افغانستان میں حکومت مخالفین سے مذاکرات کے لیے قائم امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی اپنے پہلے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
یہ دورہ رواں سال اگست میں ہونا طے تھا لیکن بغیر کوئی وجہ بتائے مؤخر کر دیاگیا تھا۔ اس مرتبہ بھی ان کی آمد کے وقت پاک افغان سرحد پر ایک ایسا واقع رونما ہوا ہے جس پر حکومتِ پاکستان کافی طیش میں آئی ہے۔
پاکستانی حکام کے بقول اس حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستانی حکام کے بقول یہ واقع جنوبی وزیرستان کے نیزے نرائی علاقے میں پیش آیا جہاں افغان سکیورٹی فورسز کے داغے ہوئے مارٹر آبادی پرگرے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ اس حملے پر پاکستانی ردعمل بھی غیرمعمولی اور سخت تھا۔ افغان سفیر کو وزارت خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایاگیا۔ وزارت کے اعلیٰ ترین افسر سیکرٹری خارجہ جلیل عباس کا تشویش سے بھرا توجہ طلب بیان بھی جاری کروایا گیا ہے۔ ماضی میں اکثر ایسے چھوٹے واقعات کو سفارتی سطح پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے لیکن اس مرتبہ ایسا مناسب نہیں سمجھا گیا۔
ان واقعات سے محسوس ہوتا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے آرپار کوئی ایک ایسا ہے جو اس دورے کا شدید مخالف ہے۔
ایسا کون ہو سکتا ہے؟
ایسا کون ہو سکتا ہے؟ شاید وہ جو ’افغانستان سے بھاگتے ہوئے امریکہ‘ کے یقینی ہونے کے بعد ’فاتح‘ طالبان کے لیے بات چیت کی ضرورت ضروری نہیں سمجھتا، جو سمجھتا ہے کہ امریکیوں کے جانے کے بعد حکومت خودبخود ان کی گود میں آگرے گی یا وہ جو ملا برادر کو افغان حکام کے حوالے کرنے کے حق میں نہیں۔ (افغان حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے میں صلاح الدین ربانی ملا بردار کی حوالگی کا معاملہ بھی اٹھائیں گے)۔
ایسا کون ہو سکتا ہے؟ شاید وہ جو ’افغانستان سے بھاگتے ہوئے امریکہ‘ کے یقینی ہونے کے بعد ’فاتح‘ طالبان کے لیے بات چیت کی ضرورت ضروری نہیں سمجھتا۔ جو سمجھتا ہے کہ امریکیوں کے جانے کے بعد حکومت خود بخود ان کی گود میں آگرے گی یا وہ جو ملا برادر کو افغان حکام کے حوالے کرنے کے حق میں نہیں۔ (افغان حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے میں صلاح الدین ربانی ملا بردار کی حوالگی کا معاملہ بھی اٹھائیں گے)۔
سیاسی میدان میں ایک اور قدرے غیر معمولی بات کابل میں پاکستانی سفیر محمد صادق کی اچانک لب کشائی بھی ہے۔
ایک خبر رساں ادارے کو انٹرویو کے لیے اس وقت کا تعین یقیناً سوچ سمجھ کر کیاگیا تھا۔ انہوں نے اپنا پیغام اور حکومت کا موقف کافی واضح انداز میں پیش کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام شدت پسند گروہوں کی امن مذاکرات میں شمولیت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان گروہ دو سال پہلے کی نسبت اب مفاہمت کے لیے زیادہ تیار ہیں تو ان کا اشارہ شاید شمالی اتحاد کی جانب کیا تھا۔ لیکن پھر بھی ایسے کئی گروہ ہیں جنہوں نے طالبان کے خلاف لڑائی کی اور وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس بیان سے کم از کم یہ واضح ہوا ہے کہ پاکستان طالبان سمیت دیگر جنگجو گروہوں کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ لیکن بات آگے بڑھ نہیں رہی۔
دوسری جانب عسکری میدان میں بھی ڈیڈ لاک کی صورتحال ہے۔ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں کارروائی اس وقت تک نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جب تک افغانستان میں اتحادی افواج پاک افغان سرحد کو مکمل طور پر سیل نہیں کر دیتے۔ اتحادی فوج کا دوسری طرف کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت جب فوجی انخلاء جاری ہے سرحد سیل کرنے کے لیے انہیں کم از کم تیس ہزار فوجی درکار ہوں گے۔ یہ وہی تعداد ہے جو صدر اوباما کی ’سرج‘ پالیسی کے تحت افغانستان میں تعینات کی گئی تھی اور آج کل ان کی واپسی کا عمل جاری ہے۔
لہذٰا مبصرین کے خیال میں نہ امریکی سرحد سیل کرنے کی حالت میں ہیں اور نہ ہی پاکستان اس میں کوئی زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں کارروائی سے پہلے پاک افغان سرحد کو سیل کرنا ضروری ہے
البتہ چھوٹے پیمانے پر ایک غیر معمولی پیش رفت ضرور دیکھی جا رہی ہے۔ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مبینہ سرحد پار حملے کے علاقے کے قریب ہی سوئی وڑئی کے نام سے ایک چھوٹا سا پہاڑ واقع ہے۔ یہ پہاڑ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد بھی ہے۔ یہیں افغانستان اور پاکستان کی سکیورٹی چیک پوسٹیں بھی قائم ہیں۔
سوئی وڑئی سے تقریباً چند کلومیٹر کے فاصلے پر خوجہ خدر نامی ایک دوسرا پہاڑ ہے۔ خوجہ خدر کے بارے میں آج تک واضح نہیں کہ یہ کس کی ملکیت ہے۔ اس پہاڑ کی ایک چوٹی پر گزشتہ کئی سالوں سے پاکستان نے ایک مورچہ بنا رکھا تھا لیکن بتایا جاتا ہے کہ کچھ عرصے سے پاکستان نے یہ مورچہ خالی کر دیا تھا۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق خوجہ خدر پہاڑ پر امریکیوں نے اپنی فوج تعینات کر دی ہے۔ اب اطلاعات ہیں کہ پاکستانی طالبان کو یہ بات کوئی زیادہ پسند نہیں آئی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار حملوں کی وجہ سے پہلے ہی تعلقات کشیدہ ہیں۔ پہلے پہل تو پاکستان پر شدت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام تھا اب افغانستان کو بھی پاکستان کی جانب سے اسی قسم کی شکایت کا سامنا ہے۔ ایسے تعطل اور بداعتمادی میں مذاکرات کی کامیابی مشکوک ہو جاتی ہے۔






























