افغانستان پر پاکستانی حملوں کی مذمت

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, احمد ولی مجیب
- عہدہ, بی بی سی نیوز
افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ پر پاکستان کی جانب سے ہونے والے راکٹ حملوں کو افغان طالبان نے تمام عالمی اور اسلامی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
طالبان کی سپریم کونسل نے اپنے ایک اعلامیے میں ان حملوں کو افغانستان کی سلامتی اور خود مختاری کے منافی قرار دے کر اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کی جانب سے کنڑ اور ان سے ملحقہ علاقوں پر گولہ باری اور راکٹ داغے جا رہے ہیں۔
طالبان کے مطابق ان حملوں میں بے گناہ افراد کا مالی اور جانی نقصان ہو رہا ہے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین طویل سرحد کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور تاریخی رشتے بھی موجود ہیں اور ایسے میں موجودہ اقدامات کسی کے مفاد میں نہیں۔
طالبان نے اپنے اس اعلامیے میں افغان حکومت پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کنڑ کے لوگوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔
طالبان کی سپریم کونسل کا یہ اعلامیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغان حکومت اور کابل میں موجود نیٹو کمانڈر ان حملوں کی شدید مذمت کر چکے ہیں۔
افغانستان میں موجود ایساف فورسز نے ابتداء میں ان حملوں پر لاعلمی کا اظہار کیا تھا لیکن بعد میں اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ حملے قابل تشویش ہیں اور اس کو روکنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان پارلیمان کے بعض ارکان اور سول سوسائٹی حکومت پر دباو ڈال رہی کہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا جائے۔
گزشتہ دو سالوں سے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں پر دونوں جانب سے راکٹ داغنے اور چیک پوسٹوں پر حملوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں جس میں اب تک دونوں جانب سے متعدد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔
تازہ واقعہ گزشتہ ہفتے پاکستانی وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے دورۂ کابل کے دو روز بعد سامنے آیا جب افغان حکام نے دعویٰ کیا کہ مشرقی صوبے کنڑ کے ضلع دانگام اور شیگل پر پاکستانی سرزمین سے چار سو کے قریب راکٹ داغے گئے۔ان حملوں میں ایک خاتون سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
افغان حکام نے اس واقعے پر کابل میں موجود پاکستانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے سخت احتجاج کیا تھا اور اسی روز افغان پارلیمان اور سینیٹ نے بھی ان واقعات کو افغانستان کی سلامتی کے خلاف قراردیا تھا۔ جس کے بعد یہ باتیں سامنے آنے لگیں کہ افغان حکومت اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جائے گی ۔
دوسری جانب حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان کے مختلف علاقوں سے پاکستانی فوج کی چیک پوسٹوں پر حملے ہوتے رہتے ہیں اور ان حملوں پر جوابی کارروائی کی جاتی ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والے ان حملوں میں ایک درجن سے زائد پاکستانی فوجیوں سمیت سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ صوبہ کنڑ میں ملا فضل اللہ کی قیادت میں طالبان کا ایک گروہ سرگرم ہے جو سوات آپریشن کے بعد کنڑ فرار ہوا تھا اور اب یہ وہاں سے پاکستانی علاقوں دیر، باجوڑ اور چترال پر حملہ آور ہوتے ہیں۔
جمعرات کو اسلام آباد میں افغان سفیر عمر داود زئی نے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے ساتھ ملاقات میں اس مسئلے کو اٹھایا۔
افغان سفارت خانے کے ترجمان زردشت شمس کے مطابق افغانستان میں اس حوالے سے کافی غم وغصہ موجود ہے اور ہم نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کو فوری طور پر روکے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحدی تنازع ایک ایسے وقت میں طول پکڑ رہا ہے جب افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا وقت قریب ہو رہا ہے۔
موجودہ سرحدی تنازع کے ساتھ ساتھ افغانستان اور پاکستان کے مابین ڈیورنڈ لائن کا سرحدی تنازع بھی موجود ہے۔ جو اس موجودہ کشمکش میں ایک بار پھر سر اٹھا سکتا ہے۔







