
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد ڈھائی ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ڈیورنڈ لائن بین الاقومی طور پر تسلیم شدہ سرحد ہے اور اس کا دوبارہ تعین کرنے کے لیے افغانستان کا مطالبہ درست نہیں ہے۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نبے کہا کہ افغانستان کی طرف سے وقتاً فوقتاً یہ معاملہ اُٹھایا جاتا ہے حالانکہ اس مطالبے میں کوئی جان نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا ڈیورنڈ لائن کا معاملہ پاکستان کے لیے ختم ہوچکا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیم کے رہنما ملا فضل اللہ کو، جن پر ملالہ یوسفزئی پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام بھی ہے، پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے افغانستان کی حکومت اور افعانستان میں موجود ایساف فورسز کو ایک ’ڈوزیر‘ بھیج دیا گیا ہے اور اُن کی پاکستان حوالگی کے سلسلے میں دستاویزات بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ ملا فضل اللہ ان دنوں افعانستان میں موجود ہیں اور وہ وہاں بیٹھ کر پاکستان میں شدت پسندی کی کارروائیاں کروا رہے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ہمسایہ ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مستحکم افغانستان پاکستان کے حق میں ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔
امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوران صدر براک اوباما کے اس بیان کے بارے میں کہ پاکستان میں فوج اور آئی ایس آئی سویلین حکومت سے زیادہ طاقتور ہیں، معظم احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام ادارے قانون کے تحت کام کر رہے ہیں اور فوج اور دیگر خفیہ ادارے وزیر اعظم کو جواب دہ ہیں۔
پاک افغان سرحد کی کل لمبائی دو ہزار چھ سو کلومیٹر ہے۔
یہ پاکستان کی کسی بھی پڑوسی ملک کے ساتھ طویل ترین سرحد ہے۔
یہ سرحد 1893 میں برطانوی راج اور افغان امیر کے درمیان معاہدے کے بعد قائم کی گئی تھی۔
اس سرحد کا نام مورٹیمر ڈیورنڈ کے نام پر رکھا گیا جو اس وقت ہندوستان میں خارجہ سیکریٹری تھے۔
اُسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی سے متعلق معلومات کا تبادلہ نہ کرنے کے امریکی صدر کے بیان پر معظم احمد خان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں پاکستان نے دنیا کے سامنے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔
امریکی انتظامیہ کی طرف سے پاکستان میں ڈرون حملے جاری رکھنے سے متعلق وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اس ضمن میں پاکستان کا مؤقف واضح ہے اور ڈرون حملے کسی بھی صورت میں دہشت گردی کو روکنے میں موثر ثابت نہیں ہو سکتے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان اس مسئلے کا ایسا حل چاہتا ہے جو دونوں ملکوں کے لیے قابل قبول ہو۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا مؤقف غیر متزلزل ہے اور اس جنگ میں پاکستان نے دیگر ملکوں سے زیادہ قربانیاں دی ہیں جسے دنیا بھی تسلیم کرتی ہے۔






























