
افغانستان پر شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2014 میں نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغان حکومت کے ختم ہونے اور خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔
انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے افغان پولیس اور فوج ابھی ملک میں پوری طرح سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر صدر حامد کرزئی نے شفاف انتخابات کرانے کے لیے اقدامات نہیں کیے تو دو سال بعد ملک میں انتخابات اتنے ہی پرفریب ہوں گے جتنا کہ گزشتہ انتخابات تھے۔
افغان حکومت نے رپورٹ کو ’کچرا‘ کہتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی فورسز ملک کی روح اور خود مختاری کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
افغان صدر کے نائب ترجمان حامد علمی کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی برادری مستقبل میں حمایت کے وعدے پورے کرتی ہے تو 2014 میں نیٹو افواج کے انخلاء سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
ترجمان نے کہا کہ ’ہم نے ابھی مکمل رپورٹ نہیں دیکھی، لیکن ہماری حکومت کے خاتمے کی باتیں احمقانہ اور کچرا ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارا ملک 2002 میں وجود میں نہیں آیا تھا۔ ہماری پانچ ہزار پرانی تاریخ ہے۔ ماضی میں ہم سپر پاورز کے خلاف لڑ چکے ہیں۔ ہماری پولیس اور فوج ملک کے دفاع کے لیے تیار ہے۔‘
ترجمان نے مزید کہا کہ افغان حکومت، صدر اور عوام 2014 کے انتخابات کے منتظر ہیں اور یہ انتخابات بغیر بیرونی بداخلت کے آزادانہ اور شفاف ہوں گے۔
آئی سی جی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان ایک تباہ کن سیاسی بحران کی جانب جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ حکومت گر سکتی ہے حہاں تک کہ خانہ جنگی بھی ہو سکتی ہے۔






























