اب ہر لحاظ سے حد ہو گئی ہے، حامد کرزئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
افغان صدر حامد کرزئی نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ قندھار میں سولہ شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار امریکی فوجی کے خلاف تحقیقات میں مکمل تعاون نہیں کر رہا۔
اس امریکی فوجی کی شناخت ظاہر کر دی گئی ہے۔ یہ شخص امریکی محکمہء دفاع کا اٹھتیس سالہ سٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز بتایا گیا ہے۔ اسے کویت کے راستے امریکہ لے جایا گیا ہے جہاں اس پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائےگا۔ اسے امریکی فوج کے ایک قید خانے میں رکھا جائے گا۔
افغانستان کے ارکانِ پارلیمان نے اس فوجی کے خلاف افغانستان میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
صدر حامد کرزئی نے ہلاک ہونے والے سولہ افراد کے رشتہ داروں سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر مقامی لوگوں نے صدر سے انصاف کا مطالبہ کیا۔
صدر کرزئی نے بتایا کہ مقامی افراد نے اس واقعے کی یکسر مختلف تفصیلات بتائی ہیں اور ان کے مطابق فائرنگ میں اس فوجی کے ساتھ کم از کم ایک شخص اور بھی شامل تھا۔
صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ’ایسا بہت عرصے سے ہو رہا ہے اور اب ہر لحاظ سے حد ہو چکی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہbbc
صدر حامد کرزئی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس معاملے میں کی جانے والی سرکاری تحقیقات کے سربراہ کو امریکہ کی جانب سے متوقع تعاون حاصل نہیں ہو رہا۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ہلاکت کا سلسلہ بہت عرصےسے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اب ہر طرح سے حد ہو چکی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بدھ کے روز افغان صدر نے امریکہ سے کہا تھا کہ شہریوں کی ہلاکت کے واقعات روکنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دیہاتی علاقوں سے اپنی فوج واپس بلا لے اور افغان سکیورٹی فورسز کو انتظام سنبھالنے دے۔
شہریوں کی ہلاکت کے بعد طالبان نے بھی امریکہ سے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم انہوں نے اپنے بیان میں اس قتلِ عام کے واقعے کا ذکرنہیں کیا۔
ادھر سولہ شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار امریکی فوجی کے وکیل جان ہینری براؤن کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو عراق میں تعیناتی کے دوران جسم اور دماغ میں چوٹیں لگی تھیں اور وہ اپنی اگلی تعیناتی پر جانے سے خوش نہیں تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان شہریوں کے قتل سے ایک دن پہلے ہی فوجی کے ایک دوست کا پیر دھماکے کی وجہ سے اڑ گیا تھا اور یہ منظر اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
گزشتہ اتوار کو امریکی فوجی کی جانب سے فائرنگ کے واقعے میں عورتوں اور بچوں سمیت سولہ افراد کی ہلاکت پر افغانستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدگی بڑھی ہے۔







