پاکستان طالبان کو مذاکرات کرنے کی اجازت دے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سے ملاقات میں زور دیا ہے کہ پاکستان میں موجود افغان طالبان کو امن مذاکرات میں حصہ لینے کی اجازت دے۔

یہ بات انہوں نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ ملاقات میں کہی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات سات گھنٹے طویل تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لیون نے بتایا کہ حامد کرزئی نے کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ اتنی طویل ملاقات کا مقصد نتیجہ خیز بات چیت کرنا تھا۔

اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے تحفظات پیش کیے۔

افغان صدر نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا یہ دور پچھلے دور کی طرح نہ ہو جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ ’پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ اس طویل بات چیت کا مقصد یہ تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ختم کیے جا سکیں۔‘

وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف ے اس بات کی تردید کی کہ پاکستان طالبان کی مدد کرتا ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی افواج سویلین کنٹرول میں ہیں۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے دارالحکومت کابل میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کی ہے۔

اس ملاقات کے بعد یہ دونوں رہنما پہلی مرتبہ افغانستان کا دورہ کرنے والے پاکستانی وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کریں گے جس میں اہم امور پر بات چيت کی توقع ہے۔

اس ملاقات میں وزیراعظم کیمرون نے صدر کرزئی کو یہ یقین دہانی کرائی کہ دو ہزار چودہ میں برطانوی افواج کے انخلاء کے بعد بھی برطانیہ افغانستان کی معیشت کے استحکام کے لیے اس کی مدد کرتا رہےگا۔

انہوں نے افغانستان میں افسران کی تربیت کے لیے برطانوی اکیڈمی سینڈہرسٹ کے طرز پر ایک اکیڈمی کی تعمیر کے لیے معاہدہ پر دستخط بھی کیے۔

واضح رہے کہ پاکستان کو اس بات پر تشویش ہے کہ کابل میں بھارت کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔

افغانستان سے دو ہزار چودہ میں بیرونی افواج کا انخلاء ہونا ہے اور اس صورت حال میں اسے حال میں جاپان میں ہوئی عالمی کانفرنس میں سولہ کروڑ ڈالر کی امداد دیے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

افغانستا ن کی معیشت کا انحصار عالمی امداد پر ہے اور ورلڈ بینک کے مطابق ملک کی پچانوے فیصد مجموعی پیداوار بیرونی امداد پر مشتمل ہے۔