
انتخابات کے لیے چند روز قبل جاری کیے گئے ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل در آمد کیا جائے گا۔
پشاور میں الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری محمد افضل خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’تین کروڑ ستر لاکھ مشتبہ ووٹروں کو ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیا گیا ہے۔‘
الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات کے لیے چند روز قبل جاری کیے گئے ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل در آمد کریں گے۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹوں کا اندراج، ووٹوں کا انتقال اور ناموں کی تبدیلی کا عمل انتخابات کے شیڈول کے اعلان تک جاری رہے گا۔
تئیس جنوری کو پاکستان کے الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لیے انتخابی اصلاحات اور ضابطۂ اخلاق کے مسودہ قانون کی منظوری دی تھی۔
کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق قومی اسمبلی کے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی کے ساتھ پچاس ہزار جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو پچیس ہزار روپے فیس جمع کرانے ہونگے۔
منظور شدہ مسودے کے تحت جعلی ووٹ ڈالنے والے ووٹر پر ایک لا کھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
انتخابات میں جعل سازی کرنے والے افراد کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اور پانچ سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔
ڈائریکٹر جنرل الیکشن نے کہا کہ کراچی میں ووٹروں کی تصدیق کا عمل دس مارچ تک مکمل کر لیا جائے گا۔
انہوں نے الیکشن کمیشن کے بدھ کو منعقد ہونے والے اجلاس میں بھرتیوں پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں حکومتی اعتراض کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ پابندی آئین کی دفعہ دو سو اٹھارہ کے تحت عائد کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن نے گیارہ نئی سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کی بھی منظوری دی۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستان کے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات تک ہر قسم کے اسلحہ لائسنس کے اجراء پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔
یہ تجویز دو جنوری کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دی گئی تھی۔






























