
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کرنے کا عمل بہت مشکل ہے۔
یہ بات انہوں نے منگل کو کراچی کے ضلع وسطی کا دورہ کرتے ہوئے کہی جہاں انتخابی فہرستوں کا تصدیقی عمل جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں گھر گھر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل اور نئی حلقہ بندیاں کرنا مشکل امر ہے تاہم سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں عمل کیا جائے گا۔
ان کے بقول وہ اپنے عہدے کو مشن کے طور پر لیتے ہیں اور آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانا ہی ان کا مشن ہے جس کے بغیر اب وہ نہیں جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے دوران فوج کی ضرورت نہیں پڑی ہے اور کور کمانڈر کراچی کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر الیکشن کمیشن کے عملے کو فوج کی مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔
یاد رہے کہ ستائیس نومبر کو سپریم کورٹ نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو کراچی میں نئی حلقہ بندیوں پر لائحہ عمل طے کرکے تین دن میں عدالت کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
عدالتِ عظمیٰ نے ہدایت کی تھی کہ کراچی میں انتخابی حلقوں کی ازسر نو حد بندی اس طرح کی جائے کہ کسی ایک گروپ یا سیاسی جماعت کی اجارہ داری قائم نہ ہو۔
عدالت نے سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد کو ہدایت کی کہ تین دن کے اندر سندھ حکومت سے مشاورت کرکے کراچی میں انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کا طریقۂ کار طے کریں اور رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔






























