
اس سوچ کو ختم ہو جانا چاہیے کہ الیکشن نہیں ہوں گے: فخرالدین جی ابراہیم
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم کا کہنا ہے کہ ملک میں جب تک نئی مردم شماری نہیں ہوتی نئی حلقہ بندیاں نہیں ہونی چاہیں۔
انہوں نے یہ بات بدھ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
جسٹس (ر) فخرالدین کا کہنا تھا کہ ان کی ذاتی رائے میں ایک بار جب آئین کے مطابق مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ہو جائیں تو آئندہ مردم شماری تک نئی حلقہ بندیاں کرنے کا کوئی جواز نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں مردم شماری ہوئی جس کے مطابق حلقہ بندیاں ہو گئیں۔ ان حلقہ بندیوں کو ہمیں قبول کرنا چاہیے۔ جب تک نئی مردم شماری نہیں ہوتی نئی حلقہ بندیوں کا یہ کوئی وقت نہیں ہے‘۔
چیف الیکشن کمشنر نے یہ بھی بتایا کہ کراچی سمیت سندھ بھر کی سیاسی جماعتوں سے نئی حلقہ بندیوں کے معاملے پر تجاویز طلب کی گئی ہیں جن کی روشنی میں اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا اور مستقبل کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کے التواء کی باتیں صحیح نہیں اور اس سوچ کو ختم ہو جانا چاہیے کہ الیکشن نہیں ہوں گے بلکہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے۔
چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات بہت ضروری ہیں، سیاسی جماعتیں نئے نئے تنازعات کھڑے کرنے کے بجائے عوام میں جائیں اور عوام سے بھی اپیل ہے کہ وہ اپنا حق رائے دہی ضروراستعمال کریں۔
جسٹس (ر) فخرالدین نے کہا کہ غیر جانبدارانہ انتخابات کے لیے امن و امان کا قیام بہت ضروری ہے اور اس سلسلے میں آرمی چیف جنرل کیانی نے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ حکم دیا تھا کہ کراچی میں انتخابی حلقوں کی ازسر نو حد بندی اس طرح کی جائے کہ وہاں کسی ایک گروپ یا سیاسی جماعت کی اجارہ داری قائم نہ ہو۔
اس حکم پر الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کہا تھا کہ کراچی میں نئی حلقہ بندیوں پر متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ باقی پندرہ بڑی جماعتیں راضی ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کروانے کے احکامات پر نظرِ ثانی کے لیے سپریم کورٹ میں دو اپیلیں بھی جمع کروائی ہیں۔






























