
عام انتخابات کے دوران کراچی میں پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر فوج تعینات کی جائے گی
پاکستان کی الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ عام انتخابات میں فوج، رینجرز، فرنٹیئر کور اور پولیس سمیت تمام ریاستی مشینری کو استعمال کیا جائے گا۔
یہ بات جمعرات کو کمیشن کے سیکریٹری اشتیاق احمد خان نے صحافیوں کو بتایا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے امن و امان کے بارے میں کافی خدشے ظاہر کیے ہیں۔
کلِک کراچی حلقہ بندیاں: ’فوج ہو گی تو ہر جگہ جائیں گے‘
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی اور اس بارے میں عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔ ان کے بقول کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے بارے میں متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ باقی پندرہ بڑی جماعتیں راضی ہیں اور الیکشن کمیشن کسی سے زیادتی نہیں کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی میں ووٹرز کی گھر گھر تصدیق کا کام ایک سے دو ہفتے میں شروع ہوجائے گا اور اٹھارہ ہزار افراد یہ کام کریں گے اور یہ کام پینسٹھ روز میں مکمل ہوگا۔ یہ کام کرنے والے عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے وزارت دفاع اور کراچی کے کور کمانڈر کو خط لکھے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عام انتخابات کے دوران کراچی میں پولنگ سٹیشنز کے اندر اور باہر فوج تعینات کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ عام انتخابات کی ابھی تاریخ تو طے نہیں ہوئی لیکن مقررہ مدت کے مطابق قومی اسمبلی سولہ مارچ کو تحلیل ہوجائے گی۔ ’گنتی شروع ہوگئی ہے اور الیکشن کمیشن کی تمام تر توجہ عام انتخابات پر ہی مرکوز ہے۔‘
اشتیاق احمد خان نے بتایا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے عام انتخابات کے دوران امن و امان کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے بقول امن و امان کے لیے الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس سمیت تمام ریاستی مشینری استعمال کریں گے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ کراچی، فاٹا اور بلوچستان میں فوج تعینات کرنا پڑے گی۔
سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ دو جنوری کو امن و امان کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس بلایا گیا ہے جس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹری، پولیس کے سربراہان، وزارت دفاع اور داخلہ کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔ ان کے بقول ملک بھر میں اسّی ہزار پولنگ سٹیشنز ہوں گے اور ہر پولنگ سٹیشن کے پریزائڈنگ افسر کو فرسٹ کلاس میجسٹریٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کے سیکریٹری نے بتایا کہ چار دسمبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کی کوئی بڑی اور ٹھوس شکایت نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات شفاف ہوں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں پہلی بار تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس اعتبار سے آئندہ عام انتخابات الیکشن کمیشن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔






























