
سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں کروانے کا مطالبہ کیا تھا
پاکستان میں عدالتی پالیسی بنانے والی قومی کمیٹی نے آئندہ عام انتخابات میں عدالتی افسران کی بطور ریٹرننگ افسران تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابات کی نگرانی عدلیہ سے کروانے کے مطالبے کے بعد سپریم کورٹ سے یہ درخواست کی تھی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز کے مطابق سنیچر کو اسلام آباد میں نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے اجلاس میں کمیٹی الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش کیے جوابات کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ الیکشن کمیشن کو ادارہ جاتی مدد کی ضرورت ہے۔
بیان کے مطابق اس لیے قومی عدالتی کمیٹی نے انتخابی عمل میں عدالتی عملے کی شرکت پر عائد پابندی ملک کے وسیع تر مفاد میں صرف ایک مرتبہ آئندہ عام انتخابات کے لیے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ سنہ دو ہزار نو کی جوڈیشل پالیسی کے تحت عدالتی افسران کی خدمات انتخابی عمل کے لیے فراہم نہیں کی جا سکتیں۔
اس اجلاس میں شریک الیکشن کمیشن کے سیکرٹری جنرل اشتیاق احمد خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں ڈسٹرکٹ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج ریٹرننگ افسر اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کے فرائض سرانجام دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ اور الیکشن کمیشن مل کر صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔
انہوں نے بتایا الیکشن کمیشن نے دو ماہ قبل سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد ان کے متفقہ مطالبے پر سپریم کورٹ کو ایک خط لکھا تھا جس میں انتخابات میں عدلیہ کے افسران کو تعینات کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور انیس سو پچاسی کے بعد انتخابات میں اسے عدلیہ کی مدد حاصل رہی ہے اور آئندہ انتخابات میں عدالتی افسران کی تعیناتیوں کو بھی اسی کڑی میں سمجھا جائے۔
اشتیاق احمد خان کے مطابق عدالتی افسران کی انتخابی عمل میں مدد دینے پر کوئی آئینی قدغن نہیں ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے اجازت دیے جانے پر ان کی ممکنہ تعیناتیوں کو تحفظ بھی مل گیا ہے۔






























