
پاکستان کے انتخابی کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کے لیے ضابط اخلاق میں پہلی مرتبہ صدر اور صوبائی گورنروں کو بھی اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وہ اپنے سرکاری دوروں کو کسی جماعت یا امیدوار کی حمایت کے لیے استعمال نہ کریں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جمعرات کو جاری ایک بیان میں واضح کیاگیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب سیاستدانوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جس میں انہیں نااہل قرار دیا جانا بھی شامل ہے۔
جمعرات کو ہی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے نظر ثانی شدہ ضابط اخلاق میں صدر اور گورنرز کے علاوہ اسمبلوں کے سپیکر اور ڈپٹی سپکر، چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینیٹر، وزیراعظم، وفاقی وزراء، وزیر مملکت، وزراء اعلیٰ، صوبائی وزراء، وزیراعظم، وزراء اعلیٰ کے مشیر اور سرکاری عہدہ رکھنے والے تمام افراد کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سرکاری دوروں کو انتخابی مہم کا حصہ نہ بنائیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ضابط اخلاق میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کا اطلاق نگران حکومت پر بھی ہو گا۔
عوام اور سیاسی جماعتوں کے جائزے کے لیے گزشتہ دنوں جاری اس ظابطہ اخلاق میں مبصرین کے خیال میں ان عہدوں پر فائز افراد پر محدود پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
ان کے خیال میں اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صدر اور گورنر پر سرکاری دوروں کے علاوہ کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہونے پر پابندی نہیں ہوگی۔
پارلیمانی جمہوریت کی مضبوطی کے لیے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم پیلڈیٹ کا کہنا ہے کہ وہ دو ہزار سات سے انتخابی کمیشن سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ صدر اور گورنروں پر کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی عوامی سطح پر سرے عام یا خفیہ طریقےسے حمایت نہ کرنے کا پابند بنائے۔
ایک بیان میں اس کا کہنا ہے کہ ضابط اخلاق نہیں بلکہ سخت انتخابی قوانین اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا انتخابی کمیشن کا اختیار ہی صاف، شفاف اور غیرجانبدار انتخابات کو یقینی بناسکیں گے۔
اس کا کہنا ہے کہ ظابطہ اخلاق کی عزت رضاکارانہ عمل کا حصہ ہے اصل ضرورت انتخابی قوانین کو مزید سخت کرنے کی ہے۔
انتخابی کمیشن کا اختیار
"ضابطہ اخلاق نہیں بلکہ سخت انتخابی قوانین اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا انتخابی کمیشن کا اختیار ہی صاف، شفاف اور غیرجانبدار انتخابات کو یقینی بنا سکیں گے"
پیلڈیٹ
بعض لوگوں کے خیال میں ضابطہ اخلاق کہیں تو سطحی اور کہیں مبہم ہے۔ مثال کے طور پر ظابطہ اخلاق میں’طویل‘ کار ریلیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ طویل سے مراد کیا ہے۔ لمبے جلوسوں کی بابت بھی اسی قسم کی مبہم بات کی گئی ہے۔
کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں میں نظم و ضبط پیدا کریں۔ سوال یہ ہے کہ اس کا تعین کس طرح کیا جائے گا۔
ہتھیار رکھنے سے متعلق بھی دو شقوں میں تضاد ہے۔ شق اٹھائیس میں اس پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے لیکن شق بیالیس میں کم سے کم رکھنے کی بات کی گئی ہے۔
تاہم ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس ضابطہ اخلاق میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے سے منع کیا گیا ہے۔دیکھنا ہے کہ اس پر صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں کتنا عمل درآمد ہوتا ہے۔
الیکیشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کا مسودہ تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو ارسال کر دیا گیا ہے اور وہ اس پر اپنی تجاویز، رائے دو ہفتوں کے اندر بھیج سکتی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اگر دو ہفتوں میں کسی سیاسی جماعت کی جانب سے کوئی جواب یا رائے نہیں آتی تو اس صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ اسے ضابط اخلاق کا مسودہ منظور ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اسے پڑھیں، غور کریں اور اپنی مثبت تجاویز دو ہفتوں کے اندر دیں تاکہ اسے متفقہ طور پر نافذ کیا جا سکے۔






























