
’نادرا کے ساتھ معلومات کے تبادلے کا معاہدہ ہو گیا ہے، اب ’ون مین ون ووٹ‘ ہوگا‘ محمد افضل خان
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل سیکریٹری محمد افضل خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات عدالت کی نہیں بلکہ صرف الیکشن کمیشن کی زیر نگرانی ہوں گے۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر میں ایک پریس بریفنگ میں بتائی۔ محمد افضل خان نے کہا کہ امن و امان قائم رکھنا صوبائی حکومتوں کا کام ہے مگر اگر ضرورت ہوئی تو حساس پولنگ اسٹیشنز پر فوج، رینجرز اور پولیس بلائی جا سکتی ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا تھا کہ محمد افضل خان نے اس تاثر کو رد کیا کہ انتخابات عدالت کی زیر نگرانی ہوں گے۔ محمد افضل خان کا کہنا تھا کہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے جسے وہ صوبائی انتظامیہ، سیاسی جماعتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے نبھائیں گے۔ محمد افضل کے مطابق ملک میں اس وقت رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً نو کروڑ ہے اور اندراج کا کام انتخابات کے شیڈول کے اعلان تک جاری رہے گا۔
انھوں نے بتایا کہ نادرا کے ساتھ معلومات کے تبادلے کا معاہدہ ہو گیا ہے، اب ’ون مین ون ووٹ‘ ہوگا یعنی دو جگہوں پر ایک ہی نام کے اندراج کی غلطی نہیں ہو گی۔ محمد افضل کا کہنا تھا کہ پولنگ اسٹیشنز پر ساتھ لاکھ عملہ تعینات کیا جائے گا اور کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں سٹیشنز پر موجود صدارتی افسر مجسٹریٹ اول کے اختیارات کو استعمال کرے گا جو اس سے پہلے نہیں کیا جاتا تھا۔
ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن نے اس موقع پر ووٹر تعلیمی پلان کا اعلان بھی کیا جس کے تحت ضلع اور یونین کونسل کی سطح پر ڈپٹی الیکشن کمشنر مقامی انتظامیہ کے تعاون سے ووٹرز کی آگہی کی مہم چلائیں گے۔ اس مہم میں لوگوں میں ووٹ ڈالنےسمیت اس کے طریقہ کار کے بارے میں شعور پیدا کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے تمام صوبوں سے رابطوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا جس کا آغاز بلوچستان سے ہوگا جہاں چیف الیکشن کمیشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم خود جائیں گے۔






























