
ضابطۂ اخلاق سیاسی جماعتوں کو بھیجا جائے گا اور ان کی رائے یا تجویز کی روشنی میں اسے بہتر بنایا جائے گا
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے ضابطہ اخلاق کی منظوری دے دی ہے۔
پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق الیکشن کمیشن کے سیکرٹری اشتیاق احمد کے بقول جو بھی امیدوار نئے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرے گا اسے نااہل قرار دیے جانے کی سزا کا مستوجب ہو گا۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضابطۂ اخلاق سیاسی جماعتوں کو بھیجا جائے گا اور ان کی رائے یا تجویز کی روشنی میں اسے بہتر بنایا جائے گا۔
ضابطۂ اخلاق کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخاب کے روز اسلحہ لے کر چلنے کی قطعی ممانعت ہو گی اور انتخابی مہم کے دوران کسی امیدوار کو مخالف امیدوار کی ذاتیات پر تبصرہ آرائی کی اجازت نہیں ہو گی۔
انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی تیاریوں کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام انتظامات کو حمتی شکل اکتیس دسمبر تک دے دی جائے گی۔
سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور ان کی حامیوں کو علاقایت، فرقہ واریت، صنفی امتیاز، برادری بازی اور لسانیت گروہ بازی کو ہوا دینے اور بھڑکانے والی تقریریں نہیں کر سکیں گے۔
نسل، ذات، مذہب اور صنف کی بنیاد پر کوئی سیاسی جماعت یا امیدوار کسی دوسری جماعت یا امیدوار کے انتخابات میں حصہ لینے کے خلاف پرپیگنڈہ نہیں کر سکے گا۔
سیاسی جماعتوں کی آرا اور تجاویز
"سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضابطۂ اخلاق سیاسی جماعتوں کو بھیجا جائے گا اور ان کی رائے یا تجویز کی روشنی میں اسے بہتر بنایا جائے گا"
انتحابات سے متعلق تمام اخراجات جنرل سیلز ٹیکس جی ایس ٹی کے لیے منظور شدہ اداروں کے ذریعے رکھا اور پیش کیا جائے گا۔
مندرجہ بالا شقوں کی خلاف ورزی بدعنوانی یا لاقانونیت تصور کی جائے گی اور قانون کے مطابق قابلِ سزا ہو گی۔
سیاسی جماعتیں اور امیدوار اپنے جلسوں کے بارے میں مقامی انتظامیہ کو کم سے کم ایک ہفتے پیشگی بتائیں گے۔
سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو اس وقت تک کاروں کے جلوسوں اور جلوس کی صورت میں طویل سفر کا اجازت نہیں ہو گی جب تک کہ متعلقہ مقامات پر پہلے سے جلسوں کا انتظامات نہ کیے گئے ہوں۔
کوئی بھی پارٹی کسی ایسے راستے سے جلوس نہیں نکال سکے گی جس پر کسی دوسری سیاسی جماعت کا جلسہ ہو رہا ہو۔






























