
پاکستان کی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے سیکرٹریوں کی جانب سے انکار کے بعد الیکشن کمیشن نے منتخب ارکان سے دوہری شہریت کے متعلق براہ راست حلفیہ بیان لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے اس سے پہلے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں اور صوبائی اسملبیوں کے سیکرٹریوں سے کہا تھا کہ وہ منتخب ارکان سے یہ حلفیہ بیانات حاصل کریں جس سے انہوں نے معذرت کرلی تھی۔
پاکستان کے الیکشن کمیش کے ایک اعلیٰ افسر افضل خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اراکین نے دوہری شہریت کے بارے میں آج سے اپنے حلفیہ بیان کمیشن کے پاس جمع کرانے شروع کردیے ہیں۔
’مختلف اراکین پارلیمان نے آج الیکشن کمیشن خود آ کر یہ حلفیہ بیان جمع کرایا کہ ان کی شہریت پاکستان کی ہے اور باقی ان کے پاس کوئی شہریت نہیں ہے اور لوگ مثبت جواب دے رہے ہیں۔ ایک رکن نور عالم خان صاحب اتفاقاً میرے دفتر میں آئے اور میرے سامنے ہی انھوں نے حلفیہ بیان پر دستخط کرکے میرے پاس جمع کرایا۔باقی بھی جب آئیں گے ، چاروں صوبوں اور اسلام آباد سے بھی آئیں گے تو آپ کو بتائیں گے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو نو اکتوبر تک اپنے حلفیہ بیانات جمع کرانا ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کے عہدیدار افضل خان نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے تمام قومی اسمبلی، سینٹ، صوبائی اسمبلیوں کے سیکریڑیوں کو( ارکان سے حلفیہ بیان جمع کرنے کے لیے) خط لکھا تھا مگر سینیٹ اور قومی اسمبلی نے مغذرت کرلی ہے اور کہا آپ ( الیکشن کمیشن) براہ راست ان( ارکان ) سے ( حلفیہ بیان لے لیں۔‘
الیکشن کمیشن کے سیکرٹری اشیاق احمد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سیکریٹریوں کی طرف سے جو جواب ملا ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہ حلفیہ بیان حاصل کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔
پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلیوں کے سیکریٹریٹ کی جانب سے اس بارے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
البتہ حکومتی عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر یہ کہتے رہے ہیں کہ قواعد و ضوابط کے تحت پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے سیکریڑی ارکان سے حلفیہ بیان جمع کرنے کے پابند نہیں ہیں۔
ان کا یہ بھی موقف رہا ہے کہ یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات کے دوران اس بات کو یقینی بنائے کہ دوہری شہریت والے افراد انتخابات میں حصہ نہ لے سکیں۔
الیکشن کمیشن کے سیکریڑی اشتیاق احمد خان نے گزشتہ سال انیس دسمبر کو بی بی سی بات کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا تھا یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہی ہے۔






























