
سنہ انیس سو نوے کے انتخابات کے دوران سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے حوالے سےدائرخواستوں سے متعلق سپریم کورٹ کےفیصلے پر اصغر خان نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس فیصلے پر عمل در آمد ہوگا۔
سپریم کورٹ نے سنہ نوے کے انتخابات میں دھاندلی سے متعلق ائیرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے مقدمےکا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ’نوے کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی‘۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عمل کو آلودہ کرنا اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سربراہ اسد درانی کے انفرادی فعل تھا۔
بی بی سی کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے ائیر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق رقوم لینے اور دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
اصغر خان نے کہا کہ سنہ انیس سو نوے کے انتخابات میں دھاندلی کو تسلیم کیے جانے کا اب کوئی فائدہ تو نہیں ہے تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب اسی کی روشنی میں کیے جانے والے اقدامات سے مستقبل میں ہونے والے انتخابات کو دھاندلی سے پاک کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ انیس سو پچہتر کے بعد ہونے والے تمام انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جنرل اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف تو کارروائی ہوگی ہی، ساتھ ہی اور بھی کئی باتیں سامنے آئیں گے جن میں وہ سیاستدان بھی سامنے آئیں گے جنہوں نے رقوم لیں۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ انیس سو پچہتر سے قبل فوج کا کوئی اہلکار نہ تو انتخابی دھاندلی میں ملوث ہوا اور نہ ہی اسے سزا ملی۔
اصغر خان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرزا اسلم بیگ اور اسد درانی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو سیاستدان اس رقم سے مستفید ہوئے ان کی بھی تحقیقات کی جائیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ اصغر خان نے آئی ایس آئی کی طرف سے مہران بینک اور حبیب بینک کے ذریعے سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس کی کچھ سماعتوں کے بعد اس درخواست کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا اور دس سال کے بعد اس درخواست کی سماعت دوبارہ شروع کی گئی تھی۔






























