اصغر خان کیس: صدر کے دفتر کو فریق بنا لیا گیا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 4 اکتوبر 2012 ,‭ 07:59 GMT 12:59 PST

پاکستان کی سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کی طرف سے سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم سے متعلق مقدمے میں موجودہ صدرِ مملکت کے دفتر کو فریق بنانے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔

اس ضمن میں صدر کے پرنسپل سیکرٹری کو نوٹس بھی جاری کیا جائے گا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان کا عہدہ وفاق کی علامت ہوتا ہے اور ایوان صدر میں ایسے سیاسی سیل قائم ہونے سے اس ائینی عہدے پر اُنگلیاں اُٹھنا شروع ہوجاتی ہیں۔

عدالت نے اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے پرنسپل سیکرٹری روئیداد خان کو بھی فریق بنانے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔ یہ دونوں درخواستیں پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ائرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی طرف سے دائر ہوئیں تھیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے انٹرسروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کی طرف سے سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ صدر مملکت وفاق کی علامت ہونے کے علاوہ پاکستانی افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں اور اگر اس طرح کے سیاسی سیل ایوان صدر میں ہوں گے تو اس کے اثرات فوج پر بھی پڑیں گے۔

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں بھی صدر کے دو عہدوں اور اُنہیں وہاں پر سیاسی سرگرمیوں کے انعقاد سے روکنے کے لیے بھی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔

درخواست گُزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کا یہ ذاتی فعل ہے اور اس میں موجودہ صدر کا کوئی کردار نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کسی کو ذاتی حثیت میں نوٹس جاری نہیں کر رہی بلکہ ایک آئینی عہدے سے متعلق جو خدشات پائے جاتے ہیں اُن کو دور کرنا ہے۔

ذاتی حثیت میں نوٹس نہیں

درخواست گُزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کا یہ ذاتی فعل ہے اور اس میں موجودہ صدر کا کوئی کردار نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کسی کو ذاتی حثیت میں نوٹس جاری نہیں کر رہی بلکہ ایک آئینی عہدے سے متعلق جو خدشات پائے جاتے ہیں اُن کو دور کرنا ہے۔

اُنہوں نے اپنے ریمارکس میں اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ اس درخواست کے فیصلے میں عدالت اس بات کو بھی واضح کر دے گی کہ ائندہ کوئی بھی سیاسی سیل ایوان صدر میں نہ ہو۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ بینچ میں موجود جواد ایس خواجہ نے درخواست گُزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سابق صدر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم اُن کا ذاتی فعل ہے اسی طرح خفیہ ایجنسیاں بھی یہ کہہ سکتی ہے کہ اُنہوں نے یہ فعل اپنی مرضی سے کیا۔

سماعت کے دوران سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک کے دستخط سے جاری کردہ بیان عدالت میں جمع کروایا گیا جس میں ایک بار پھر کہا گیا ہے کہ اس وقت وزارت کے کسی بھی ماتحت ادارے میں سیاسی سیل کام نہیں کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کو سپریم کورٹ نے فوج کے خفیہ اداروں میں سیاسی سیل کے قیام سے متعلق سیکرٹری دفاع کے بیان کو غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس بیان کے مندرجات مبہم ہیں جبکہ سیکرٹری دفاع کو اس ضمن میں جامع جواب جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت میں سیکریٹری داخلہ خواجہ صدیق اکبر بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اُنہوں نے بتایا کہ انٹیلیجنس بیورو یعنی آئی بی وزارت داخلہ کے نہیں بلکہ کیبنٹ ڈویژن کے ماتحت ہے جس کی نگرانی وزیر اعظم خود کرتے ہیں۔ اس لیے اُن کے علم میں نہیں ہے کہ اس ایجنسی میں کوئی سیاسی سیل ہے بھی کہ نہیں۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو معلومات اکھٹی کرکے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے اس درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ سنہ اُنیس سو ستانونے میں اس درخواست کی سماعت کے دوران اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ آئی ایس آئی میں سیاسی سیل موجود ہے جبکہ اس ضمن میں اٹارنی جنرل کی طرف سے بھی ایک جواب عدالت میں جمع کروایا گیا تھا کہ سنہ اُنیس سو پچھتر میں آئی ایس آئی میں سیاسی سیل قائم ہوا تھا تاہم اس کا نوٹیفیکیشن ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

عدالت نے سماعت پندرہ اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>