رقوم کی تقسیم کے مقدمے کی سماعت کا آغاز

بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوج اور آئی ایس آئی پر مل کر بے نظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے اور اس کے بعد اسے اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے سیاستدانوں میں پیسے تقسیم کرنے کا الزام ہے

سپریم کورٹ بدھ سے ریٹائرڈ ائرمارشل اصغر خان کے اس مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع کر رہی ہے جس میں پاکستانی سیاست، انتخابات اور حکومتوں کی تشکیل میں پاکستانی فوج اور اسکی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے مشکوک کردار کو چیلنج کیا گیا ہے۔

اس مقدمے کی سماعت لگ بھگ ساڑھے دس برس کے بعد شروع کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں نامہ نگار احمد رضا سے بات کرتے ہوئے ریٹائرڈ ائیرمارشل اصغر خان نے کئی برسوں بعد مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع ہونے پر اپنے تاثرات میں کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ مقدمے کا فیصلہ جلد ہی ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ مقدمے کو نئے سرے سے سنا جائے لیکن ابھی اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدالت عالیہ اس مقدمے کا فیصلہ کر دے اور واضح اقدامات کا اعلان کرے تو اس کا پاکستانی سیاست پر بہت مثبت اثر ہو گا۔

فوج اور آئی ایس آئی کی طرف سے سیاستدانوں میں پیسے تقسیم کرنے کے اپنے مقدمے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’میرا موقف ہے کہ اس وقت غیر قانونی کمانڈ پر عمل کیا گیا تھا جو کہ غلط تھا۔‘

اصغر خان کے اس مقدمے کی بنیاد 1990ء کے انتخابات میں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی جانب سے مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کی مخالف جماعتوں میں کروڑوں روپے کی تقسیم ہے جس کا بظاہر مقصد پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنا اور اس کے سیاسی مخالفین کے اتحاد آئی جے آئی کو حکومت میں لانا تھا۔

پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما ریٹائرڈ فوجی جرنیل نصیر اللہ بابر نے گیارہ جون 1996ء میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک ایسے فوجی منصوبے کا پردہ چاک کیا تھا جس کے ذریعے ’عوامی سیاست کے اس خطرے‘ سے نمٹنے کی کوشش کی گئی تھی جو افغان جنگ کے خاتمے اور اس کے سورما جنرل ضیاء الحق کی گیارہ سالہ فوجی آمریت کے بعد ایک بار پھر سر اٹھا رہی تھی۔

نصیر اللہ بابر کے بقول منصوبے کے اس وقت کی فوجی قیادت اور اس کے حامی سیاسی کرداروں نے ’قومی مفاد میں پیسے اور ریاستی طاقت کا پوری نیک نیتی سے‘ استعمال کیا تھا۔

نصیر اللہ بابر نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے کے بعد انہیں دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے اس وقت کے فوجی سربراہ ریٹائرڈ جنرل مرزا اسلم بیگ نے 1990ء کے انتخابات کے لیے مہران بینک سے کروڑوں روپے نکلوا کر مختلف سیاستدانوں میں تقسیم کئے تاکہ پیپلز پارٹی کے مخالف سیاسی اتحاد آئی جے آئی کو کامیاب کرایا جاسکے۔

بابر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ اس رقم کی بندر بانٹ کا فریضہ اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے انجام دیا تھا۔

ریٹائرڈ جنرل مرزا اسلم بیگ اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی عدالت میں اس الزام کو قبول کرچکے ہیں لیکن اسکے باوجود یہ مقدمہ سولہ برسوں سے سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہے۔

1990ء کے انتخابات کے نتائج کرشمہ ساز تھے۔ پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی دونوں کے بارے میں یہ کہا جارہا تھا کہ وہ دونوں حکومت سازی کے لیے درکار واضح مینڈیٹ حاصل نہیں کر پائیں گے لیکن پیپلز پارٹی کی سربراہی میں بننے والے اتحاد پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کی 45 نشستوں کے مقابلے میں آئی جے آئی نے 105 نشستوں کا مضبوط مینڈیٹ حاصل کرکے سب کو حیران کر دیا تھا۔

نصیر اللہ بابر کے اس انکشاف پر پاکستان کی فضائی فوج کے سابق سربراہ ریٹائرڈ اصغر خان اس معاملے کو عدالت میں لے گئے تھے۔

انہوں نے 16 جون 1996ء کو اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس سید سجاد علی شاہ کو خط لکھ کر اس بدعنوانی کا نوٹس لینے کی درخواست کی تھی جس پر سپریم کورٹ نے اصغر خان کے اس خط کو اٹھائیس اکتوبر 1996ء کو آئینی درخواست میں تبدیل کر دیا تھا۔

درخواست کی سماعت کے دوران عدالت میں آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ اسد درانی نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو سات جون 1994ء کو لکھے گئے ایک خط کی نقل پیش کی تھی جس میں اس وقت کی فوجی قیادت سے پیسے لینے والے سیاسی رہنماؤں اور دوسرے افراد کے ناموں کی فہرست شامل تھی۔

بعد میں لیفٹیننٹ جنرل نصیر اللہ بابر نے عدالت میں انہی سیاستدانوں اور افراد کو مبینہ طور پر فوجی قیادت کی جانب سے مزید رقوم کی ادائیگیوں کے متعلق بینک دستاویزات بھی جمع کرائی تھیں۔لیکن یہ معاملہ آج تک کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔

اس کیس کی آخری بار سماعت گیارہ اکتوبر 1999ء کو ہوئی تھی۔

ریٹائرڈ ائرمارشل اصغر خان پچھلے سولہ برسوں سے اپنے اس مقدمے کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں اور اس عرصے کے دوران وہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بننے والے تمام ججوں کو اس مقدمے کی شنوائی کرنے کے لیے کئی بار خطوط بھی لکھ چکے ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بھی کم از کم چار خطوط لکھے۔

آخری مرتبہ آٹھ اگست دو ہزار سات کو سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے نام یاد دہانی کے خط کی آخری سطر میں اصغر خان نے لکھا تھا کہ ’میری عمر اب 86 برس ہوگئی ہے۔‘