
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیاں کرنے کا حکم دیا ہے
پاکستان کے سپریم کورٹ نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو کراچی میں نئی حلقہ بندیوں پر لائحہ عمل طے کرکے تین دن میں عدالت کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ کراچی میں انتخابی حلقوں کی ازسر نو حد بندی اس طرح کی جائے کہ کسی ایک گروپ یا سیاسی جماعت کی اجارہ داری قائم نہ ہو۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کرنے کے لیے تیار ہیں۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز کراچی میں زمین کے مالکانہ حقوق کی منتقلی پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔
جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے آج کراچی بد امنی کیس کے فیصلے پر عملد درآمد کا جائزہ لیا۔
عدالت نے سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد کو ہدایت کی کہ تین دن کے اندر سندھ حکومت سے مشاورت کرکے کراچی میں انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کا طریقۂ کار طے کریں اور رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کے لئے تیار ہے، کراچی کی نئی حلقہ بندی نہ صرف کراچی بلکہ ملک، عوام اور سیاسی جماعتوں کے لئے بھی بہتر ثابت ہوگی۔
عدالت نے پولیس اور رینجرز کے حکام کو بھی ہدایت کی کہ کراچی میں کارروائی کے دوران دونوں ادارے اپنے رابطے بہتر کریں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ دونوں اداروں کے درمیان رابطے اور اعتماد کے فقدان کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے جس کے خلاف ثبوت و شواہد ضائع ہوجاتے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ گرفتاری بعض اوقات رینجرز کرتی ہے جبکہ اسے ظاہر پولیس افسران کرتے ہیں ایسا مقدمہ کیسے چل سکتا ہے جس کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہو
عدالت نے الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کو ہدایت کی کہ سندھ حکام، یعنی چیف سیکرٹری، ریوینیو بورڈ کے حکام، ضلعی افسران اور دیگر متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد تین دن میں عدالت کو آگاہ کریں۔
سپریم کورٹ نے ایک اور مقدمے میں قریباً آٹھ سو دیہات کی زمین کے مالکانہ حقوق کی منتقلی پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔
سینیئر ممبر ریونیو بورڈ شاذر شمعون نے عدالت کو بتایا کہ ریوینیو بورڈ کی عمارت میں ہنگامہ آرائی کے دوران آگ لگنے سے قریباً آٹھ سو مضافاتی دیہہ کا ریکارڈ جل گیا تھا اب ہم نے بہتّر فیصد ریکارڈ درست کرلیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قریباً پانچ سو دیہات کا ریکارڈ درست کرلیا گیا ہے۔
عدالت نے انہیں حکم دیا کہ جب تک ریکارڈ مکمل طور پر درست نہ ہو اس وقت تک زمین کی منتقلی روک دی جائے۔
عدالت نے پولیس اور رینجرز کے حکام کو بھی ہدایت کی کہ کراچی میں کارروائی کے دوران دونوں ادارے اپنے رابطے بہتر کریں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ دونوں اداروں کے درمیان رابطے اور اعتماد کے فقدان کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے جس کے خلاف ثبوت و شواہد ضائع ہوجاتے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ گرفتاری بعض اوقات رینجرز کرتی ہے جبکہ اسے ظاہر پولیس افسران کرتے ہیں ایسا مقدمہ کیسے چل سکتا ہے جس کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہو۔
عدالت نے ہدایت کی کہ جب رینجرز کے پاس پولیس کے اختیارات ہیں تو پھر وہ تھانہ بنائیں، ملزم کو پکڑیں، مقدمہ درج کریں قانونی دائرے میں رہ کر کام کریں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ شہر میں دہشتگردی بم دھماکے ہوتے ہیں لیکن رینجرز نے منشیات میں ملوث ملزمان پکڑے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز نے عدالت میں تسلیم کیا کہ بعض واقعات میں واقعی دیر ہوجاتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس سے رابطوں کا مسئلہ حل کرلیں گے۔






























