
پولیس افسر ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر صرف گپیں لگا رہے ہیں: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کراچی میں جرائم میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور وہاں سورج غروب ہونے کے بعد کوئی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا۔
سپریم کورٹ کے مطابق لوگوں کے جان اور مال کا تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس عارف حسین خلجی، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل بینچ نے گذشتہ سال کراچی میں ہلاکتوں کے واقعات کے از خود نوٹس کی سماعت کے جاری کیے گئے احکامات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔
حکومت کی جانب سے آئی جی سندھ پولیس فیاض لغاری، ایڈووکیٹ جنرل فتاح ملک اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ وسیم احمد پیش ہوئے۔
جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو تیرہ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے، وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس پر کتنا عمل درآمد ہوا ہے۔
انہوں نے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ لسانی بنیادوں پر کی گئیں حلقہ بندیاں ختم کرنے کی ہدایت پر کتنا عمل کیا گیا ہے؟
ایڈووکیٹ جنرل فتاح ملک نے انہیں آگاہ کیا کہ اس سلسلے میں کام کیا جا رہا ہے۔ اس پر جسٹس انور ظہیر جمالی نے انہیں مخاطب ہو کر کہا کہ اگر احکامات پر عمل درآمد ہوتا تو انہیں سماعت کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
جسٹس عارف حسین خلجی کا کہنا تھا کہ کراچی میں بڑے پیمانے پر خون ریزی جاری ہے اور وہاں بچوں کا گھروں سے نکلنا بند ہوگیا ہے۔
انہوں نے حکومتی اہلکاروں کو مخاطب ہو کر کہا کہ ان کے بچوں کو تحفظ حاصل ہوگا لیکن غریب کے بچوں کو کوئی تحفظ نہیں ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل فتاح ملک نے عدالت کو بتایا کہ پورے ملک سے جرائم پیشہ عناصر کراچی آتے ہیں، جن میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے یاد دہانی کرائی کہ ان غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی حکومت کی ذمے داری ہے۔
سماعت کے دوران جج صاحبان پولیس افسران کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے رہے۔ جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ پولیس افسر ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر صرف گپیں لگا رہے ہیں۔
آئی جی پولیس بغیر سکواڈ کے شہر کا ایک چکر لگائیں تو انہیں صورتِ حال کا پتا چل جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ پولیس کو سکواڈ کی کیا ضرورت ہے؟ اگر آئی جی کو ڈر لگتا ہے تو وہ اپنا منصب چھوڑ دیں۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم وسیم احمد نے عدالت کو بتایا کہ روزانہ بیس سے تیس افراد غیر قانونی اسلحے کے ساتھ گرفتار ہوتے ہیں مگر بعد میں انہیں رہائی مل جاتی ہے۔
"آئی جی پولیس بغیر سکواڈ کے شہر کا ایک چکر لگائیں تو انہیں صورتِ حال کا پتا چل جائے گا۔ پولیس کو سکواڈ کی کیا ضرورت ہے، اگر آئی جی کو ڈر لگتا ہے تو وہ اپنا منصب چھوڑ دیں۔"
جسٹس امیر ہانی مسلم نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق ان ملزمان کو ضمانت کا حق حاصل ہے، حکومت قانون میں ترمیم لائے، اگر حکومت چاہتی ہے تو گھنٹوں میں قانون لے کر آجاتی ہے۔
جسٹس انور ظہیر جمالی نے برہمی کا اظہار کرتے حکام سے سوال کیا کہ تیرہ ماہ ہو چکے ہیں، انہیں بتایا جائے کہ احکامات پر کتنا عمل درآمد ہوا ہے ، کتنی گرفتاریاں ہوئیں، کیا کسی کو سزا ہوئی ہے اور کتنے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی گئی؟
ایڈیشنل چیف سیکرٹری وسیم احمد نے جواب میں کہا کہ عدالت کے احکامات پر عمل ہوا ہے مگر کچھ سست رفتاری رہی ہے، اب اس میں تیزی لائی جائے گی ۔
ایڈیشنل آئی جی اقبال محمود نے عدالت کو بتایا کہ شہر میں ایک سو تین تھانے ہیں جن میں سے پینتالیس حساس ہیں، جہاں ہلاکتوں کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی دوران جسٹس امیر ہانی مسلم نے ان سے سوال کیا کہ جوڑیا بازار کا ایس ایچ او کون ہے؟ اے آئی جی نے بتایا کہ انہیں علم نہیں۔
جسٹس امیر ہانی مسلم نے انہیں بتایا کہ وہاں اگر جانور کی کھال دینے سے انکار کیا جائے تو جانور کو گولی مار دی جاتی ہے۔
اے آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس ایسی کوئی شکایت نہیں آئی ہے، جسٹس امیر ہانی نے کہا کہ کون شکایت کرے گا،جانور تک کو تو زندہ نہیں چھوڑتے۔
رینجرز اور پولیس نے بتایا کہ شہر سے نو گو ایریا ختم کرائے گئے ہیں۔ یہ نو گو ایریا چوکیداری نظام کے نام پر بنائے گئے تھے۔
جسٹس انور ظہیر نے حکام سے معلوم کیا کہ انہوں نے چائنہ ٹاؤن دیکھا ہے؟ اس کا پورا راستہ بند ہے۔
ایڈوو کیٹ جنرل نے بتایا کہ وہاں صدر پاکستان آصف علی زرداری کی رہائش گاہ ( بلاول ہاؤس) واقع ہے۔ جسٹس انور نے ان سے پوچھا کہ آخر بلاول ہاؤس کو کتنی سکیورٹی چاہیے؟ سڑک پر قبضہ کیا گیا ہے، زمین خرید لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پورا شہر نو گو ایریا ہے۔
چیف سیکرٹری اور ڈی جی رینجرز کی عدالت میں پیش نہ ہونے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے دونوں کو منگل کو طلب کر لیا۔






























