کراچی میں ہڑتال، تئیس ہلاکتوں کے بعد حالات کشیدہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 08:33 GMT 13:33 PST

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں منگل کو دو بم دھماکوں اور پرتشدد واقعات میں تئیس افراد کی ہلاکت کے بعد بدھ کو بھی کئی علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں۔

ادھر شہر میں جماعتِ اسلامی کی جانب سے اپنے رہنما کی ہلاکت اور اسلام مخالف متنازع فلم کے خلاف ہڑتال بھی کی جا رہی ہے۔

ہڑتال کے نتیجے میں بدھ کو شہر میں بیشتر تجارتی مراکز اور کاروبار بند رہا جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی معمول سے کم رہی۔

جماعت اسلامی نے سابق ٹاؤن ناظم اور جماعت کے رہنماء ڈاکٹر پرویز محمود کے قتل کے خلاف گزشتہ روز کراچی میں ہڑتال اور پورے ملک میں احتجاج کی کال دی تھی۔

نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق جماعتِ اسلامی کے ترجمان نے دعوٰی کیا ہے کہ پولیس نے اس کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور ایک سو کے لگ بھگ کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ تاہم پولیس حکام نے ان اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

جماعت کے ترجمان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ پولیس نے جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی کو رات کو ان کے گھر پر نظر بند کر دیا تھا تاہم پولیس نے ان کی نظربندی بدھ کی دوپہر تک واپس لے لی۔

سرفراز احمد نے ہڑتال کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے ہڑتال کو کامیاب بنا کر حکومت کو واضح الفاظ میں بتادیا ہے کہ وہ شہر میں امن چاہتے ہیں۔

کراچی میں ہڑتال کی کال کے تناظر میں چند مشتعل افراد نے رات گئے شاہراہِ فیصل پر سٹار گیٹ کے قریب ٹائر جلائے جس سے علاقے میں خوف ہراس پھیل گیا اور شاہراہ پر ٹریفک بلاک ہوگیا۔

اس کے علاوہ نارتھ ناظم آباد، نیوکراچی، شیرشاہ، گلشنِ اقبال اور بعض مقامات پر بھی مشتعل نوجوانوں نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ لی مارکیٹ میں صبح کو شدید فائرنگ کی گئی۔

ہڑتال کی کال کے پیشِ نظر زیادہ تر پبلک ٹرانسپورٹروں نے اپنی بسیں اور منی بسیں سڑکوں پر نہیں نکالیں جس کے باعث سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ معمول سے بہت کم رہی اور بس سٹاپس پر لوگوں کا رش نظر آیا۔

شہر کے کئی علاقوں میں پٹرول پمپس اور سی این جی سٹیشنز رات کو ہی بند کر دیے گئے تھے جس کی وجہ سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا رہا۔

حکومت کی جانب سے سکولوں میں چھٹی نہیں دی گئی تھی تاہم پبلک ٹرانپسورٹ انتہائی کم ہونے کی وجہ سے بیشتر سکول بند رہے جبکہ دفاتر اور فیکٹریوں میں حاضری بھی کم رہی۔

پولیس نے شہر کی مجموعی صورتحال کو پرامن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ شہر میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کے پولیس اور رینجرز کے گشت کو بڑھا دیا گیا ہے۔

منگل کو دن میں کراچی میں محکمۂ تعلیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور سابق ٹاؤن ناظم سمیت گیارہ افراد کو فائرنگ کے مختلف واقعات میں ہلاک کیا گیا تھا جبکہ نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق منگل کی رات مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

انہوں نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔

اس سے پہلے منگل کی شام کو کراچی میں نارتھ ناظم آباد کے کمرشل علاقے حیدری میں دو بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سات ہو گئی ہے اور تیئیس افراد زخمی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور ایک دس سالہ بچی بھی شامل ہے جبکہ زخمیوں میں بھی تین خواتین اور بچے شامل ہیں جو علاقہ مکینوں کے مطابق شام کے وقت خریداری کے لیے جمع تھے۔

دونوں دھماکے بوہرہ کمیونٹی کے رہائشی علاقے میں واقع ایک شاپنگ مال سے تقریباً دو سو میٹر دور واقع گرین بیلٹ میں ہوئے، جہاں پھلوں اور آئسکریم کے ٹھیلے موجود تھے۔

ایس پی راجہ عمر خطاب نے جائے وقوع کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ دھماکے کے لیے سات سے آٹھ کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے، جو اس سے پہلے فرقہ وارانہ شدت پسند تنظیمیں استعمال کرتی رہی ہیں۔

حیدری میں داؤدی بوہرہ کمیونٹی کی اکثریت آباد ہے جو زیادہ تر تجارت سے وابستہ ہے۔

ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کا کہنا ہے کہ ان کی ذاتی رائے میں اس دھماکے کا مقصد بوہری کمیونٹی کو ٹارگٹ کرنا تھا۔ ان کے مطابق ماہ رمضان میں اسی علاقے سے ایک بم بھی برآمد ہوا تھا، جس ناکارہ بنایا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>