
پاکستان کے شہر کراچی میں محکمۂ تعلیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور سابق ٹاؤن ناظم سمیت گیارہ افراد کو فائرنگ کے مختلف واقعات میں ہلاک کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق محکمۂ تعلیم کے افسر معین خان کو نامعلوم افراد نے منگل کی دوپہر پاک کالونی کے علاقے میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
ایس پی غربی عامر فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کے واقع میں ڈپٹی ڈائریکٹر معین خان ہلاک جبکہ ان کے قاتل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
معین خان کی لاش کو بعدازاں پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا۔
کراچی سے نامہ نگار ارمان صابر کے مطابق اس سے قبل نمائش چورنگی پر جماعتِ اسلامی کے رہنما اور سابق ٹاؤن ناظم ڈاکٹر پرویز محمود کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
اس موقع پر سخت سکیورٹی کا انتظام کیا گیا تھا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کے علاوہ مختلف سیاسی، سماجی، اور دیگر افراد نے شرکت کی۔
جماعتِ اسلامی کے ترجمان سرفراز احمد نے بتایا کہ ان کی جماعت کی جانب سے ڈاکٹر پرویز محمود کے قتل کے خلاف بدھ کو ملک میں یومِ احتجاج اور کراچی میں ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر پرویز محمود اپنے ایک دوست کے ہمراہ ایک کار میں پیر اور منگل کی درمیانی شب نارتھ ناظم آباد میں کے ڈی اے چورنگی سے گزر رہے تھے کہ اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر پرویز محمود کے دوست سلیم اللہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ ڈاکٹر پرویز محمود نے ہسپتال پہنچ کر دم توڑ دیا۔
ایس پی گلبرگ لطیف صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتول کے اہلِ خانہ چونکہ نماز جنازہ میں مصروف تھے اس لیے اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکی ہے اور نہ ہی کسی مشتبہ ملزم کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔
واضح رہے کہ جماعتِ اسلامی کے کراچی کے سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے دور میں ڈاکٹر پرویز محمود کراچی میں ٹاؤن ناظم تھے اور وہ شہر کی معروف شخصیت تصور کیے جاتے تھے۔
اس سے پہلے بھی انہیں کئی بار قتل کی دھمکیاں ملتی رہی تھیں۔ تاہم دھمکیاں ملنے کے باوجود نہ انہوں نے کبھی اپنے ساتھ پولیس گارڈز رکھے اور نہ ہی نجی کمپنی کے مسلح گارڈز کی خدمات حاصل کیں۔
ان دو واقعات کے سمیت پولیس کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران مختلف علاقوں میں گیارہ افراد فائرنگ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔






























