کراچی فائرنگ: پولیس افسر سمیت سات ہلاک

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

پاکستان کے تجارتی اور اقتصادی مرکز کراچی میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں پولیس کے ایک ایس پی سمیت سات افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

سپرٹنڈنٹ پولیس شاہ محمد کی ہلاکت کا واقعہ کورنگی کے علاقے میں پیر کو پیش آیا۔

کورنگی پولیس کا کہنا ہے کہ ایس پی شاہ محمد بنگالی پاڑہ میں اپنے ڈاکٹر دوست سے ملنے گئے تھے اور وہاں سے واپسی پر ان پر فائرنگ کی گئی جس میں ایس پی شاہ محمد اور ان کے دوست ڈاکٹر دلشاد زخمی ہوگئے جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کرگئے۔

شاہ محمد ایس پی ایڈمن کے منصب پر فائز تھے دو ماہ قبل انہیں ترقی دی گئی تھی۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جائے وقوع پر موجود آئی جی سندھ سید مشتاق شاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار چار سے چھ مسلح افراد نے یہ حملہ کیا ہے اور ان کا ٹارگٹ ایس پی شاہ محمد تھے تاہم انہوں نے اس کی وجہ بیان نہیں کی۔

کراچی میں نوے کی دہائی میں آپریشن کے وقت ایس پی شاہ محمد ایس ایچ او تھے۔ اس سے پہلے بھی اس آپریشن میں شریک افسران نشانہ بنتے رہے ہیں۔ آئی جی کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بھی تفتیش کی جائےگی۔

پیر کی شام کو ہی گلشن اقبال کے بلاک ایک میں نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے مذہبی جماعت اہلِ سنت والجماعت کے دو کارکنوں مفتی ذیشان اور ذیشان بہاری کو ہلاک کر دیا۔

اہلِ سنت و الجماعت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا ہے۔

پیر کو ہی ٹارگٹ کلنگ کا ایک واقعہ اورنگی میں اقبال کالونی میں پیش آیا جہاں طارق شمس نامی ڈاکٹر کو مسلح افراد نے ان کے کلینک میں گھس کر گولیاں مار دیں اور پھر موٹرسائیکلوں پر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

اس کے علاوہ کلفٹن اور کھارادر کے علاقوں میں بھی فائرنگ کے واقعات میں دو نوجوان ہلاک ہوئے ہیں جن کی میتیں جناح اور سول ہسپتال پہنچا دی گئی ہیں۔