
پاکستان میں کہیں پر بھی نئی مردم شماری کے بغیر حلقہ بندی نہیں ہو سکتی
متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کروانے کے احکامات پر نظرِ ثانی کے لیے سپریم کورٹ میں دو درخواستیں جمع کروا دی ہیں۔
پیر کو سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں اپیلیں دائر کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ اس عمل کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کا نوٹس لے اور انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہیئیں۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں کروانے کا عمل غیر قانونی اور غیرمنصفانہ ہے اور ’نئی حلقہ بندیاں مردم شماری کروائے بغیر نہیں کی جا سکتیں‘۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اس سلسلے میں علیحدہ سے کوئی صوابدیدی اختیارات حاصل نہیں ہیں۔
ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما نے حلقہ بندیوں کا عمل کراچی تک محدود کرنے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ پاکستان میں کہیں پر بھی نئی مردم شماری کے بغیر حلقہ بندی نہیں ہو سکتی۔
خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ حکم دیا تھا کہ کراچی میں انتخابی حلقوں کی ازسر نو حد بندی اس طرح کی جائے کہ وہاں کسی ایک گروپ یا سیاسی جماعت کی اجارہ داری قائم نہ ہو۔
اس حکم پر الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کہا تھا کہ کراچی میں نئی حلقہ بندیوں پر متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ باقی پندرہ بڑی جماعتیں راضی ہیں۔
سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے ایک تقریر میں ردعمل ظاہر کیا تھا جس سپریم کورٹ نے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے سات جنوری کو طلب کیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ الطاف حسین نے اپنی تقریر میں ججوں کو دھمکایا ہے اور یہ تقریر ججوں کے خلاف نفرت پھیلانے، ان کا مذاق اڑانے اور توہین کرنے جیسی ہے۔






























