
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لیے انتخابی اصلاحات اور ضابطۂ اخلاق کے مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔
کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق قومی اسمبلی کے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی کے ساتھ پچاس ہزار جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو پچیس ہزار روپے فیس جمع کرانا ہو گی۔
منظور شدہ مسودے کے تحت جعلی ووٹ ڈالنے والے ووٹر پر ایک لا کھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق انتخابات میں جعل سازی کرنے والے افراد کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اور پانچ سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔
ڈائریکٹر جنرل الیکشن نے کہا کہ کراچی میں ووٹروں کی تصدیق کا عمل دس مارچ تک مکمل کر لیا جائے گا۔
انہوں نے الیکشن کمیشن نے بدھ کو منعقد ہونے والے اجلاس میں بھرتیوں پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں حکومتی اعتراض کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ پابندی آئین کی دفعہ دو سو اٹھارہ کے تحت عائد کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیشن نے گیارہ نئی سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کی بھی منظوری دی۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستان کے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات تک ہر قسم کے اسلحہ لائسنس کے اجراء پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔
یہ تجویز دو جنوری کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دی گئی تھی۔






























