
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ سالانہ آمدنی اور اخراجات کے گوشوارے اور پارٹی کے اندر انتخابات کی اسناد جلد سے جلد جمع کرائیں۔
جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں الیکشن کمیشن کے ترجمان نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ قانون کے مطابق انتخابی نشان حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو نئے سرے سے درخواست دیں۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان نے سیاسی جماعتوں کو یاد دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ دو ہزار میں جاری کردہ سیاسی جماعتوں کے قانون کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی آمدن اور اخراجات کے سالانہ گوشوارے الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائیں۔
ترجمان نے کہا ہے کہ قانون کے تحت ہر سیاسی جماعت اپنی جماعت میں انتخابات کرانے کی پابند ہے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر کوئی سیاسی جماعت سالانہ گوشوارے اور پارٹی کے انتخابات کی سند جمع نہیں کرائے گی تو وہ بھی انتخابی نشان حاصل کرنے کی اہل نہیں ہوگی۔

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا یہ قانون سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں نافذ کیا گیا تھا
الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو انفرادی حیثیت میں یا اتحاد کی صورت میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے از سر نو درخواستیں دائر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا یہ قانون سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں نافذ کیا گیا تھا۔ بظاہر اس کی وجہ غیر ملکی سرمایے سے چلنے والی سیاسی و مذہبی جماعتوں پر نظر رکھنا بتایا گیا تھا۔
اس قانون کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ پرویز مشرف نے مقبول سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے لیے رکاوٹیں ڈالنے کے لیے انتخابی اصلاحات کے نام پر یہ قانون نافذ کیا تھا۔
اگر ان کا یہ موقف درست مانا جائے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پرویز مشرف کے اقتدار سے ہٹ جانے کو چار سال ہوچکے ہیں لیکن اس قانون میں اب تک یہ سیاسی جماعتں ترمیم کیوں نہیں کر پائیں؟






























