
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے تین سوسے زائد اہلکاروں پر مشتمل خصوصی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے۔
یہ بات صوبائی سیکریٹری داخلہ کیپٹن (ریٹائرڈ) اکبرحسین درانی نے منگل کو صوبے کے تمام ڈویژنل کمشنروں کو لیویز فورس کے لیے گاڑیاں دینے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہی۔
سیکریٹری داخلہ نے کہاکہ حکومت دہشت گردی سمیت امن و امان کے حوالے سے درپیش دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اوراس مقصد کے لیے پولیس اور لیویز فورس کو فری ہینڈ دینے کے ساتھ ساتھ تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خصوصی فورس کے قیام سے دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائے تاوان جیسے گھناؤنے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور ان میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کو ہرصورت یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہاکہ ہرشخص خواہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو قانون سے بالاتر نہیں اس حوالے سے پولیس، ایف سی اور لیویز کو واضح ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ کسی سیاسی اثر یا دباؤ میں آئے بغیر اپنے فرائض سرانجام دیں۔
کیپٹن (ریٹائرڈ) اکبرحسین درانی نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت پولیس اورلیویز کو بھی ہرقسم کے اسلحے اور ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
اس موقع پر سبی ڈویژن کوتین، ژوب ڈویژن کو چار، کوئٹہ ڈویژن کو آٹھ، نصیرآباد ڈویژن کو دو جبکہ مکران ڈویژن کو ایک گاڑی دی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ مالی سال میں مکران ڈویژن کو گیارہ، قلات ڈویژن کو چھبیس، سبی ڈویژن کو تیرہ، ژوب ڈویژن کو اٹھارہ، کوئٹہ ڈویژن کو بیس اور نصیرآباد ڈویژن کو چودہ گاڑیاں فراہم کی گئی تھیں۔






























