
ضلع آوران میں ایف سی کی جوابی کاروائی میں شدت پسند ہلاک
پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع آواران میں فرنٹیئر کور نے بلوچ شدت پسندوں سے جھڑپوں میں تین اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ جوابی کارروائی میں متعدد شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
ادھر کوئٹہ میں بلوچ تنظیموں نے ایف سی کے اس آپریشن کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
فرنٹیئر کور بلوچستان کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق چوبیس دسمبر کو مہی گاؤں کے نزدیک کالعدم تنظیم بلوچ لیبریشن فرنٹ کے شدت پسندوں کی خضدار سے مشکے جانے والے ایف سی کے قافلے پر فائرنگ سے دو اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔
ایف سی کے مطابق اس حملے کے بعد صوبائی حکومت کی اجازت کے بعد فرنٹیئر کور کے دستوں نے مشکے اور اس کے گردونواح میں جوابی کارروائی کی جس میں کئی شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں ایف سی کا ایک جوان بھی مارا گیا۔
بیان کے مطابق کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے دو کیمپ مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔
فرنٹیئر کور نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے شرپسند عناصر بیرونی طاقتوں کے کہنے پر صوبے میں دہشتگردی میں ملوث ہیں۔
دریں اثناء ایف سی کے اس آپریشن کے خلاف بدھ کو کوئٹہ میں احتجاج کیا گیا۔ اس احتجاج میں بلوچ ہیومن رائٹس تنظیم اور بلوچ ریپلکن سٹوڈنٹ فیڈریشن کے شرکاء نے حصہ لیا۔ مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ ایف سی کے آپریشن میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو سو مکانات نذرِ آتش کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ منگل کو بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی چیئرمین خلیل بلوچ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ آواران میں آپریشن میں مبینہ طور پر ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ آپریشن میں جن مکانات کو جلایا گیا ہے ان میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ اور ان کے رشتہ داروں کے مکانات بھی شامل ہیں ۔
واضح رہے کہ بلوچستان کا ضلع آواران کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ کے کمانڈر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا علاقہ ہے ۔






























