بلوچستان میں مختلف حملوں میں چار ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 24 دسمبر 2012 ,‭ 17:12 GMT 22:12 PST

کوئٹہ میں پولیس چوکی پر حملے میں دو اہلکار ہو گئے

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع آواران میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں دو اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

ضلع آواران کے علاقے مشکے سے آنے والے سیکورٹی فورسز کے قافلے پر نامعلوم افراد نے سوموار کی دوپہر حملہ کیا۔

بلوچستان کی وزارتِ داخلہ نے بھی اپنے اعلامیے میں سکیورٹی فورسز کے قافلے میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کے دو اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور کا کہنا ہے کہ آوران کے علاقے مشکے میں مکران سکاوٹس کے قافلے پر حملہ ہوا ہے۔ جس میں ایف سی کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

کالعدم تحریک بلوچ لیبریشن فرنٹ کے ترجمان نے نامعلوم مقام سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حملے کے ذمہ داری قبول کی ہے۔

ادھر دارلحکومت کوئٹہ میں مشرقی بائی پاس کے علاقے میں پولیس چوکی پر حملہ ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پولیس چوکی پر حملہ کیا۔

چوکی پر ہیڈ کانسٹیبل اور بلوچستان کانسٹیبلری کے دو اہلکار ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔

حملے کے نتیجے میں بلوچستان کانسٹیبلری کے دو اہلکار ہلاک جبکہ پولیس کا ہیڈ کانسٹیبل شدید زخمی ہوگیا ہے۔

واقعے میں ملوث حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ زخمی ہونے والے پولیس اہلکار کو علاج کے لیے دارلحکومت کوئٹہ کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔

کراچی کے قریب بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ریموٹ کنٹرول سے کیے جانے والے بم حملے میں سکیو رٹی فورسز کے چار اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>