
صوبائی وزیر کے مکان پر تعینات سرکاری محافظوں نے حملہ آوروں پر فائرنگ کی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں صوبائی وزیر کے مکان پر فائرنگ کے واقعے میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔
یہ حملہ صوبائی وزیر برائے خوراک اور پیپلزپارٹی کے رہنما اسفند یار خان کاکڑ کے مکان پر ہوا۔
کوئٹہ میں مقامی صحافی نے بتایا کہ فائرنگ کا یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب چمن ہاؤسنگ سکیم میں پیش آیا جہاں صوبائی وزیر کا ذاتی مکان ہے۔
صوبائی وزیر کے مکان پر تعینات سرکاری محافظوں نے حملہ آوروں پر فائرنگ کی۔ اس فائرنگ کے تبادلے میں دونوں مبینہ حملہ آور ہلاک جبکہ ایک گارڈ بھی ہلاک ہوا۔
حملے کے وقت صوبائی وزیر اسفندیار کاکڑ خود اسلام آباد میں تھے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسفندیار کاکڑ نے کہا کہ ان کے مکان پر دو مسلح افراد نے حملہ کیا جس پر ان کے ایک سرکاری محافظ شعیب نے جوابی فائرنگ کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس فائرنگ کے نتیجے میں دونوں حملہ آور ہلاک ہوگئے جبکہ ان کا محافظ حملہ آوروں کی فائرنگ سے زخمی ہوا۔ گارڈ کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاسکا۔
صوبائی وزیر کے مطابق ان کا چھوٹا بھائی اور خاندان کے دیگر افراد حملے کے وقت مکان میں موجود تھے اور وہ محفوظ رہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کے مکان پر یہ حملہ کیوں کیا گیا۔
پولیس کے مطابق صوبائی وزیر کے سرکاری محافظ کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دونوں افرادکی شناخت ہوگئی ہے ۔
ان افراد کا تعلق کوئٹہ سے ہے تاہم مزید تحقیقات جاری ہیں جن کے مکمل ہونے کے بعد ہی حملے کی وجوہات کے بارے میں بتایا جاسکے گا۔






























