
صحافیوں کے لیے بلوچستان میں کام کرنے میں مشکلات میں شدید اضافہ ہوا اور خضدار اور پنجگور پریس کلب بھی بند ہوئے۔
سال دوہزار بارہ میں بلوچستان میں امن وامان کے حوالے سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی بلکہ ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائِے تاؤان کی وارداتوں میں اضافہ ہوا۔ اسی دوران سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کے مقدمے میں صوبائی حکومت کو غیر آئنیی بھی قرار دے دیا جبکہ صحافیوں کے لیے کام کرنے میں مشکلات میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ خضدار اور پنجگور پریس کلب بھی بند ہوگئے۔
سال کا پہلا واقعہ یکم جنوری کو ڈیرہ بگٹی میں پیش آیا جہاں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار ہلاک ہوگئے۔ واقعے کی ذمہ داری بلوچ ری پبلکن آرمی نے قبول کی تھی۔
پانچ جنوری کو ریڈکراس کے اہلکار اور برطانوی شہری ڈاکٹر خلیل کو نامعلوم افراد نے کوئٹہ سے اغواء کر لیا جن کی بعد میں لاش ملی۔
بارہ جنوری کو تربت میں بلو چ مزاحمت کاروں نے فرنٹیئر کور کے ایک قافلے کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس میں چودہ اہلکار ہلاک ہوگئے۔

لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے خلاف اور انہیں منظر عام پر لانے کے لیے اب تک کراچی پریس کلب سے سامنے لواحقین کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
چودہ جنوری کو چاغی کے علاقے سے لاپتہ افراد کی دومسخ شدہ لاشیں ملی۔ لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے خلاف اور انہیں منظر عام پر لانے کے لیے اب تک کراچی پریس کلب سے سامنے لواحقین کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے لواحقین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور مطالبہ کیا کہ ان کے پیاروں کو منظرعام پر لایا جائے اور وہ کسی جرم میں ملوث ہیں تو انہیں عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔
دوسری جانب حکومت نے لاپتہ افراد کو منظرعام پر لانے کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا تاہم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے صدر نصراللہ بلوچ نے کمیشن پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ساڑھے تین سو لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں جبکہ آٹھ ہزار کے قریب بلوچ نوجوان تاحال لاپتہ ہیں، جن کی بازیابی کے لیے کمیشن نے کچھ نہیں کیا۔
اس سال امریکی ایوانِ نمائندگان نے بھی بلوچستان میں لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے اور امن وامان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
نیشنل پارٹی کے نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ کا کہنا ہے کہ حکومت کو لاپتہ افراد کا مسئلہ سنجیدگی سے لیناچاہیے بصورت دیگر حالات مذید خراب ہوجائیں گے۔
اس دوران انسپکٹر جنرل فرنٹیئرکور بلوچستان عبید اللہ خان نے پہاڑوں میں موجود بلوچ نوجوانوں کو دعوت دی کہ وہ واپس آ کر ملک کی تعیمر و ترقی میں حصہ لیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کسی کو ملک توڑنے کی اجازت نہیں دی جائےگی اور بلوچستان کی آزادی کی باتیں کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائےگا۔
سال دو ہزار بارہ میں بھی بلوچستان میں صحافیوں کے لیے خطرات برقرار رہے۔ کئی صحافی ہلاک اور زخمی ہوئے تو کئی کو صوبہ بدر ہونا پڑا۔ اس بارے میں سینیئرصحافی سید علی شاہ نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں گذشتہ چار سالوں میں دو درجن صحافی دہشتگردی اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں لیکن تاحال حکومت نے ہلاک ہونے والے صحافیوں کے لواحقین کی مالی مدد نہیں کی ہے۔ انہوں نے حکومت اور صحافیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان لواحقین کے بہترمستقبل کے لیے ہنگامی طور پر اقدامات کریں۔

سال دوہزار بارہ شیعہ مسلک اور باالخصوص ہزارہ قوم کے لیے خوف کا سال رہا۔
سال دو ہزار بارہ میں کئی ڈاکٹر، تاجر اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد تاوان کے لیے اغواء ہوئے جس کے خلاف ڈاکٹروں نے تین ماہ تک سرکاری ہسپتالوں میں کام نہیں کیا اور ہڑتال کے باعث کئی جانیں بھی چلی گئیں۔
بلوچستان میں امن وامان کی خراب صورتحال پر سپریم کورٹ نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت کوغیر آئینی قراد دیدیا۔ اس بارے میں ممتاز قانون دان باز محمد کاکڑ ایڈوکیٹ نے بتایا کہ فیصلے میں کہاگیا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کی جان اور مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے جس کی وجہ سے انہیں حکمرانی کا حق نہیں رہا۔
تاہم بلوچستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر میر چنگیز خان جمالی نے اس کی ذمہ داری مرکزی حکومت اور خفیہ اداروں پر عائد کی اور کہا کہ اداروں کو اب ہوش کے ناخن لینا چاہئیں ورنہ بلوچستان میں حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے۔
سال دو ہزار بارہ شیعہ مسلک اور بالخصوص ہزارہ قوم کے لیے خوف کا سال رہا۔ اس سال بھی کوئٹہ اور صوبے کے دیگر حصوں میں ہزارہ قوم سے تعلق رکھنے والے سو سے زیادہ افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایاگیا جبکہ اتوار کو مستونگ میں ہونے والے ریمورٹ کنٹرول بم دھماکے میں بیس افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہوئے۔
ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی کے مرکزی چیرمین عبدالخالق ہزارہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ بارہ سال کے دوران ہزارہ قبیلے کے آٹھ سو افراد ہلاک اور دوہزار کے قریب معذور ہوچکے ہیں جبکہ تیس ہزار ملک چھوڑ کر غیرقانونی طور پر آسٹریلیا اور یورپ جا چکے ہیں۔اس دوران ایک ہزار کے قریب نوجوان سمندر میں کشتیاں الٹنے کے باعث بھی ہلاک ہوئے ہیں۔






























