
فائرنگ کے نتیجے میں دونوں اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں خفیہ ادارے کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔
فائرنگ کا یہ واقعہ جمعرات کی دوپہر سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے میں پیش آیا۔
پولیس کے مطابق یہ اہلکار موٹر سائیکل پر جا رہے تھے جب نامعلوم مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔
فائرنگ کے نتیجے میں دونوں اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
کوئٹہ پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان اہلکاروں کے قتل کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں اہلکاروں کا تعلق ایک ہی خفیہ ادارے سے ہے اور ان کے قتل کا مقدمہ سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس سٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے قتل کے شبے میں چند افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان کے ضلع آواران میں بدھ کو فرنٹیئر کور نے بلوچ شدت پسندوں سے جھڑپوں میں متعدد شدت پسندوں کو ہلاکت کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
فرنٹیئر کور بلوچستان کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق چوبیس دسمبر کو مہی گاؤں کے نزدیک کالعدم تنظیم بلوچ لیبریشن فرنٹ کے شدت پسندوں کی خضدار سے مشکے جانے والے ایف سی کے قافلے پر فائرنگ سے دو اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔
ایف سی کے مطابق اس حملے کے بعد صوبائی حکومت کی اجازت کے بعد فرنٹیئر کور کے دستوں نے مشکے اور اس کے گردونواح میں جوابی کارروائی کی جس میں کئی شدت پسند ہلاک ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں ایف سی کا ایک جوان بھی مارا گیا۔
بیان کے مطابق کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے دو کیمپ مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ بلوچستان کا ضلع آواران کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ کے کمانڈر ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا علاقہ ہے ۔






























